دہلی فسادات کیس میں پہلی سزا، دنیش یادوکو 5 سال قید

   

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں سال 2020 میں ہوئے فسادات کے سلسلہ میں جمعرات کو پہلی سزا سنائی گئی ہے۔ دہلی کی کڑکڑڈومہ عدالت نے ملزم دنیش یادو کو قصووار قرار دیتے ہوئے 5 سال کی سزا دی ہے۔ استغاثہ کے وکیل آر سی ایس بھدوریا نے اس کی تصدیق کی ہے۔پچیس سالہ دنیش یادو کو گوکل پوری علاقہ میں 73 سالہ مسلم خاتون منوری کے گھر میں لوٹ اورآتشزنی کرنے کا قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ دنیش یادو متاثرہ خاتون کے پڑوس کا ہی رہائشی تھا اور وہ اس مشتعل ہجوم میں شامل تھا جو مسلمانوں کے گھروں میں نقصان پہنچانے کے ارادے سے جمع ہوا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق قصورواروں نے خاتون کے گھر میں لوٹ پاٹ کے بعد اس میں آگ لگا دی تھی۔ یہاں تک کہ فسادی ان کے گھر کے مویشی تک لوٹ کر لے گئے تھے۔ منوری نے گھر کی چھت سے کود کر پڑوس کے ہندو خاندان میں جا کر اپنی جان بچائی تھی اور ان کا خاندان دو ہفتہ تک دہلی سے باہر رہا تھا۔ یہ پہلا معاملہ ہے جب شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے سلسلہ میں کسی کو سزا سنائی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی شخص غیر قانونی ہجوم کا حصہ ہے تو وہ بھی دیگر فسادیوں کی طرح تشدد کے لئے برابر کا ذمہ دار ہے۔ دہلی فسادات سے متعلق ایک اور معاملہ کا فیصلہ سنایا جا چکا ہے، تاہم اس میں ملزم کو بری کر دیا گیا تھا۔