محفوظ سمندری راستہ اور بلا تعطل تجارت میں دونوں ملکوں کا فائدہ
نئی دہلی، 9 ستمبر (یو این آئی) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بحر ہند کے خطے میں اجتماعی سکیورٹی اور خوشحالی کیلئے محفوظ سمندری راستے ، جہاز رانی کی آزادی، بین الاقوامی قانون کے احترام اور بلا تعطل سمندری تجارت کو ضروری قرار دیتے ہوئے ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان سمندری تعاون کو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ابھرتے ہوئے سمندری چیلنجوں کے سنگین خطرہ بننے سے پہلے ان سے مل کر نمٹنے کیلئے نئے پروٹوکول، مہارت اور تجربات کا تبادلہ کرنا ہوگا۔ سری لنکا کے دورے پر گئے راجناتھ سنگھ نے آج وہاں کی وزارت دفاع میں منعقدہ ایک پروگرام میں کہا کہ قومی سکیورٹی اور اقتصادی ترقی کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے تئیں دونوں ممالک غیر جانبدار نہیں رہ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ صلاحیت سازی اور مشترکہ مشقوں کے ذریعے دونوں ممالک نے اپنی صلاحیتیں بڑھائی ہیں لیکن دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو، خاص طور پر سمندری شعبے میں، مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اور سری لنکا مشترکہ سمندر سے جڑے ہوئے ہیں اور سمندری سکیورٹی دونوں ممالک کی تجارت، سکیورٹی اور مستقبل کو متاثر کرتی ہے ۔ انہوں نے تلاش و بچاؤ کی مہمات میں دونوں ممالک کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سمندر میں کئی لوگوں کی جانیں بچائی گئی ہیں۔ دونوں ممالک منشیات کی اسمگلنگ، سمندری قزاقی اور انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے سمندری سکیورٹی، دہشت گردی مخالف کارروائی، سائبر سکیورٹی اور منظم جرائم پر مرکوز ‘کولمبو سکیورٹی کنکلیو’ میں دونوں ممالک کی شراکت داری کو بھی اہم قرار دیا۔ وزیر دفاع نے دونوں ممالک کے تعاون سے قائم کردہ ‘میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر’ کو بحر ہند کو محفوظ بنانے کے مشترکہ عزم کی ایک مثال بتایا۔ انہوں نے صلاحیت سازی اور مشترکہ مشقوں میں سری لنکا کے ساتھ تعاون جاری رکھنے نیز مشترکہ پہل قدمیوں کیلئے پروٹوکول کو بہتر بنانے میں ہندوستان کی مدد کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان حقیقی وقت (رئیل ٹائم) میں جامع سمندری معلومات کا تبادلہ کرنے والا مربوط ‘میری ٹائم ڈومین اویئرنس’ نظام تیار کرنے کے امکان کا بھی اظہار کیا۔ اس کے ذریعے غیر قانونی ماہی گیری، مشکوک جہازوں کی نگرانی، منشیات کی اسمگلنگ، اسمگلنگ، دہشت گردی اور دیگر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
ماہی گیروں سے جڑے تنازعہات پر راجناتھ سنگھ نے متعلقہ قوانین اور جغرافیائی دائرہ اختیار کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کیلئے سود مند حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری تعاون کو صرف سکیورٹی تک محدود رکھنے کے بجائے ماہی گیری اور ایکوا کلچر، سمندری بائیو ٹیکنالوجی، اوشینوگرافی، سمندری ماحول کے تحفظ اور سمندری سیاحت جیسے شعبوں میں اقتصادی شراکت داری تک بڑھایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے قدرتی اور انسان ساختہ آفات سے تیزی سے نمٹنے کیلئے مشترکہ سمندری انسانی امداد اور آفت کے تدارک کے نظام کو تشکیل دینے کا بھی مشورہ دیا۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بحر ہند میں اسٹریٹجک اور اقتصادی تبدیلی کے دور میں ہندوستان اور سری لنکا کو اپنی صلاحیتوں کو ایک ساتھ لا کر ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی قربت باہمی انحصار پیدا کرتی ہے ، جو مشترکہ ترقی کے بڑے مواقع بھی فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور سری لنکا بحر ہند کے خطے میں امن، سکیورٹی اور استحکام کی مشترکہ طور پر حفاظت کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ وزارت دفاع پہنچنے پر راجناتھ سنگھ کو گارڈ آف آنر دیا گیا۔ انہوں نے بٹارامولا میں واقع انڈین پیس کیپنگ فورس (آئی پی کے ایف) کی یادگار پر پھول نذر کر کے فرض کی ادائیگی کے دوران عظیم ترین قربانی دینے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
سری لنکا کی وزیراعظم امرسوریہ سے راجناتھ کی ملاقات
نئی دہلی، 9ستمبر (یو این آئی) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آج کولمبو میں سری لنکا کی وزیراعظم ڈاکٹر ہرینی امرسوریہ سے ملاقات کر کے ترقیاتی تعاون بڑھانے سمیت دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات سے جڑے موضوعات پر گفتگو کی۔دونوں رہنماؤں نے تعلیم، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے ، جدت طرازی اور تحقیق کے شعبے میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ سری لنکا کے دورے پر گئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مشترکہ ورثے والے دونوں جمہوری ممالک کو خطے کی امن اور خوشحالی نیز اپنے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے مشترکہ ترقیاتی وژن کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہیے ۔ انہوں نے صلاحیت سازی کو تعاون کی اہم بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد تاریخی اور کثیر جہتی ہندوستان-سری لنکا شراکت داری کو مزید رفتار دینا ہے ۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں ممالک کے قدیم تہذیبی تعلقات اور عوام کے درمیان باہمی مضبوط رابطے کو طویل عرصے تک قائم رہنے والا تعلق بتایا۔