راجہ سنگھ اور بی جے پی قیادت میں سرد جنگ

   

پارٹی کا فلور لیڈر نہ بنانے پر ناراض، بی جے پی وجئے سنکلپ یاترا سے دوری
حیدرآباد۔ 20 فروری (سیاست نیوز)گوشہ محل کی نمائندگی کرنے والے راجہ سنگھ اور بی جے پی قیادت کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی۔ تیسری مرتبہ کامیابی کے باوجود بی جے پی قومی قیادت نے راجہ سنگھ کو تلنگانہ بی جے پی قائد مقننہ نہیں بنایا جس سے ناراض راجہ سنگھ نے بی جے پی وجئے سنکلپ یاترا سے خود کو دور رکھا ہے جو بی جے پی کے حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مرکزی وزیر و تلنگانہ بی جے پی صدر جی کشن ریڈی اور راجہ سنگھ کے درمیان برسوں سے نظریاتی اختلافات ہیں جبکہ راجہ سنگھ بی جے پی قومی جنرل سکریٹری و رکن پارلیمنٹ کریم نگر بنڈی سنجے کے کٹر حامیوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ راجہ سنگھ کی معطلی برخواست کرانے میں بنڈی سنجے نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں گریٹر حیدرآباد میں بی جے پی نے صرف گوشہ محل سے کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ عادل آباد سے 4 اور ضلع نظام آباد سے بی جے پی کے 3 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے۔ تیسری مرتبہ منتخب ہونے کے باوجود ان کے بجائے دوسری مرتبہ منتخب مہیشور ریڈی کو بی جے پی کی قومی قیادت نے تلنگانہ بی جے پی کا فلور لیڈر منتخب کیا جس کے بعد سے راجہ سنگھ بی جے پی سرگرمیوں سے دور ہے۔ اسمبلی بجٹ اجلاس میں بھی برائے نام حاضری دی۔ بی جے پی کی آج سے سنکلپ یاترا کا آغاز ہوا ہے۔ بی جے پی کے دو چیف منسٹرس اور دو مرکزی وزرا نے ان کا افتتاح کیا ہے۔ مرکزی وزیر کشن ریڈی نے کل چارمینار پر گاڑیوں کی خصوصی پوجا کی جس میں راجہ سنگھ شریک نہیں ہوئے۔ پارٹی قیادت نے انہیں آج بھونگیر میں جلسہ میں شرکت کی ہدایت دی تھی لیکن راجہ سنگھ جلسہ سے خود کو دور رکھا ہے۔ 2