راجیو یوا وکاسم اسکیم ‘ درخواستوں کی جانچ نہ ہونے پر عارضی طور پر ملتوی

   

5 جون کو کابینی اجلاس میں سرکاری ملازمین کے مطالبات اور مقامی اداروں کے انتخابات پر غور ہوگا
حیدرآباد 2 جون (سیاست نیوز) حکومت کی باوقار راجیو یوا وکاسم اسکیم کو عارضی طور پر ملتوی کردیا گیا۔ 5 جون کو منعقد ہونے والے ریاستی کابینہ کے اجلاس میں اسکیم کے علاوہ سرکاری ملازمین کے مسائل پر غور کا قوی امکان ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے 5 لاکھ بیروزگار نوجوانوں کو راجیو یوا وکاسم اسکیم کے تحت مالی امداد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور 2 جون سے اہل درخواست گذاروں میں قرض کی اجرائی سے متعلق سرٹیفکٹ دئے جانے والے تھے لیکن درخواستوں کی جانچ کا عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اِسے عارضی طور پر ملتوی کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 5 جون کو چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں نہ صرف اسکیم کا جائزہ لیا جائے گا بلکہ سرکاری ملازمین کے مطالبات پر بھی غور کا امکان ہے۔ سرکاری ملازمین کی سبکدوشی کی عمر میں ایک سال کا اضافہ کرنے، زیرالتواء ڈی اے کے علاوہ دیگر اُمور پر بھی غور و خوض کیا جائے گا۔ راجیو یوا وکاسم اسکیم کیلئے جملہ 16.23 لاکھ درخواستیں ملیں ہیں۔ حکومت نے پہلے 2 تا 9 جون اہل درخواست گذاروں میں قرض سرٹیفکٹس تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن درخواستوں کی جانچ مکمل نہ ہونے سے پروگرام کو عارضی طور پر ملتوی کیا گیا ۔ حکومت نے ’مشن 26 ڈیز‘ پروگرامس کا تلنگانہ یوم تاسیس 2 جون سے آغاز کردیا ہے جس کے مطابق اِن 26 دنوں میں اندراماں ہاؤزنگ، راجیو یوا وکاسم، رعیتو سدسو، سرکاری ملازمین کے مطالبات کی یکسوئی و دیگر پروگرام منعقد کرکے مقامی اداروں کے انتخابات کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے لیکن 2 جون سے راجیو یوا وکاسم اسکیم پر عمل نہیں ہوسکا۔ 5 جون کے کابینی اجلاس میں مقامی اداروں انتخابات سے متعلق حکمت عملی طے کی جائیگی۔ سرکاری حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں ہیں کہ پہلے گرام پنچایت انتخابات منعقد کئے جائیں یا ایم پی ٹی سی انتخابات منعقد کئے جائیں۔ کابینہ اجلاس میں اس پر واضح موقف اختیار کئے جانے کا امکان ہے۔2