راشن کارڈ کا ابھیہ ہستم پرجا پالنا پروگرام سے کوئی تعلق نہیں

   

عوام کو غیر ضروریگمراہ کیا جارہا ہے ، امجد اللہ خان خالد ایم بی ٹی ترجمان کا بیان

حیدرآباد /27 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) ریاستی حکومت کی جانب سے شروع کئے جارہے 6 گیارنٹی پروگرام ’’ ابھیہ ہستم پرجا پالنا ‘‘ کا راشن کارڈز کی اجرائی سے کوئی تعلق نہیں ہے محض عوام کو گمراہ کرنے کیلئے غلط اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں ۔ یہ بات قائد مجلس بچاؤ تحریک امجد اللہ خان نے بتائی ۔ انہوں نے عوام میں پیدا شدہ بے چینی اور افرا تفری کے ماحول پر آج مختلف محکموں کا دورہ کیا اور متعلقہ عہدیداروں سے بات چیت کے بعد اپنا پیغام جاری کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت کی 6 گیارنٹی پر عمل آوری کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے شہریوں سے درخواست کی اور غلط اطلاعات سے گمراہ نہ ہونے کا مشورہ دیا ۔ امجد اللہ خان خالد نے بتایا کہ بلدی عہدیدار عوام کے گھر پہونچکر فارمس کی تقسیم کریں گے اور تفصیلات کو حاصل کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ سوشیل میڈیا پر راشن کارڈز کی اجرائی کے تعلق سے بے بنیاد اطلاعات کو پھیلایاجارہا ہے ۔ انہوں نے مجلس ارکان اسمبلی پر الزام لگایا اور کہا کہ گذشتہ چند روز سے مجلسی اراکین اسمبلی عوام کو باور کر وا رہے ہیں کہ نئے راشن کارڈز کی درخواستیں حاصل کی جارہی ہیں اور اس کیلئے انکم سرٹیفکیٹ درکار ہے ۔ ان اطلاعات کے بعد عوام کی بھیڑ تحصیلدار کے دفاتر ، ای سیوا و می سیوا پر امڈ پڑی ہے ۔ امجد اللہ خان خالد نے ان اطلاعات کی تصدیق کیلئے آج تحصیلدار اور سیول سپلائی کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور بات چیت کرتے ہوئے ان کا موقف حاصل کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ چھ گیارنٹی پروگرام میں راشن کارڈز کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے ایسے کوئی احکامات جاری ہوئے ہیں کہ وہ راشن کارڈز کی درخواستیں عوام سے حاصل کریں اور نہ ہی راشن کارڈز کی اجرائی کیلئے کوئی رہنمایانہ خطوط جاری ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ چھ گیارنٹی پروگرام کے تحت بلدی عہدیدار گھروں پر دستک دیں گے اور فارمس حوالے کریں گے ۔ انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ نئے راشن کارڈز کی اجرائی کے متعلق تشویش کا شکار نہ ہوں ۔ ترجمان مجلس بچاؤ تحریک امجد اللہ خان خالد نے کہا کہ حکومت کو بدنام کرنے کیلئے عوام میں بے بنیاد اطلاعات کو پھیلایا جارہا ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام میں بے چینی پیدا کرنے والی ان اطلاعات اور حکومت کو بدنام کرنے والی کوششوں کا سخت نوٹ لیں ۔ انہوں نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ بدگمانی پیدا کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ۔ ع