راہول گاندھی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا کو بدعنوان قرار دیا

   

نئی دہلی، 2 اپریل (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے آسام اسمبلی انتخابات کی اپنی انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو ’’ملک کا سب سے بدعنوان وزیر اعلیٰ‘‘قرار دیتے ہوئے ان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے سرما کو ’’ملک کا سب سے بدعنوان وزیر اعلیٰ‘‘کہنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ریاست میں نفرت اور خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے ، جبکہ آسام کی پہچان باہمی بھائی چارے اور ثقافتی یکجہتی سے رہی ہے ۔ انہوں نے عظیم شخصیات کی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے لوگوں کو جوڑنے اور محبت کا پیغام آگے بڑھانے کی بات کہی۔راہول گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور آسام حکومت نے ریاست کو “اے ٹی ایم” بنا دیا ہے ۔ ریاست کی زمینیں بڑے صنعت کاروں کو دی جا رہی ہیں اور اس کے بدلے سیاسی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’’سراسر بدعنوانی‘‘ہے۔قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو راہول گاندھی نے آسام کے سریہجن اور جورہاٹ اسمبلی حلقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔

فوجیوں کو وہ عزت ملے جس کے وہ حقدار ہیں:راہول

نئی دہلی، 2 اپریل (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ مودی حکومت سابق فوجیوں کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے ، جس کی وجہ سے ان کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ حکومت ملک کی خدمت کرنے والے سابق فوجیوں کو نظر انداز کر رہی ہے ۔ حکومت سابق فوجیوں کو وہ تمام سہولیات فراہم کرے جس کے وہ حقدار ہیں۔سابق فوجیوں کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ، کانگریس لیڈر نے کہا، “جنسنسد میں کچھ دن پہلے ، میں نے سابق فوجیوں سے ملاقات کی جو ملک کا دفاع کرتے ہوئے زخمی ہوئے تھے ۔انہوں نے ایکس سروس مین کنٹریبیوٹری ہیلتھ اسکیم (ای سی ایچ ایس) میں معاوضے میں تاخیر، ادویات کی کمی، اسپتالوں کا علاج سے انکار یا واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اسکیم سے خارج ہوجانے جیسی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔گاندھی نے مزید کہا، “72 لاکھ سے زیادہ سابق فوجی اور ان کے خاندان اپنی صحت کی دیکھ بھال کیلئے اس اسکیم پر انحصار کرتے ہیں۔ جب میں نے یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھایا تو مودی حکومت نے میرے سوالات سے بچنے کی کوشش کی۔ حکومت کے پاس بقایا رقم کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے ، نہ ہی اس نے تاخیر کے بارے میں کوئی واضح وضاحت فراہم کی ہے ، صرف یہ تسلیم کیا کہ تاخیر ہوتی ہے ۔ کیگ نے حال ہی میں کہا ہے کہ ای سی ایچ ایس کو خاطر خواہ رقم نہیں مل رہی ہے – لیکن حکومت نے یہ جواب دینے سے منع کردیا ہے کہ ہمارے سابق فوجیوں کی صحت کی دیکھ بھال کیلئے ضروری فنڈز کیوں فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں۔”انہوں نے کہا کہ معذور سابق فوجیوں کیلئے ٹیکس چھوٹ کے حوالے سے میرے سوال کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔
دریں اثنا، فنانس بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کوئی فوجی سروس میں برقرار رہتا ہے تو اس کی معذوری پنشن پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ یہ اقدام ان فوجیوں کو سزا دینے کے مترادف ہے جو ملک کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری بہادر فوج ملک کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیتی ہے ۔ حکومت کو کم از کم انہیں وہ عزت اور حمایت دینی چاہیے جس کے وہ حقیقی معنوں میں حقدار ہیں۔