راہول گاندھی کے خلاف تلنگانہ سے پی وی نرسمہا راؤ کے فرزند کو اُتارنے کی تیاری

   

بی جے پی کی حکمت عملی، پی وی پربھاکر راؤ کی بی جے پی میں شمولیت کا امکان، راہول کے تلنگانہ سے مقابلہ پر فیصلہ باقی
حیدرآباد۔/6 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں لوک سبھا چناؤ کے موقع پر 3 اہم پارٹیاں زائد نشستوں پر کامیابی کیلئے انتخابی حکمت عملی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہی ہیں۔ 10 سال کے وقفہ کے بعد کانگریس کو تلنگانہ میں برسر اقتدار آئے صرف تین ماہ کا عرصہ ہوا ہے اور پارٹی لوک سبھا چناؤ میں 14 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ رکھتی ہے۔ اہم اپوزیشن بی آر ایس کو قائدین کے انحراف کے نتیجہ میں دشوار کن صورتحال کا سامنا ہے اور اس کے کئی موجودہ ارکان پارلیمنٹ دوبارہ مقابلہ سے خوفزدہ ہیں۔ مرکز میں تیسری مرتبہ اقتدار کا خواب دیکھنے والی بی جے پی نے تلنگانہ پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی نے مسلسل دو روزہ دورہ کے ذریعہ تلنگانہ میں بہتر مظاہرہ کی بنیاد رکھی ہے۔ بی جے پی تلنگانہ میں ڈبل ڈیجیٹ نشستوں پر کامیابی کی منتظر ہے۔ بی جے پی نے تلنگانہ سے راہول گاندھی کے مقابلہ کی صورت میں منفرد حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ راہول گاندھی اور کانگریس کو گھیرا جاسکے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اگر راہول گاندھی تلنگانہ سے لوک سبھا کیلئے مقابلہ کرتے ہیں تو سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے کسی فرد خاندان کو ان کے خلاف امیدوار بنایا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے گذشتہ دنوں سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کو بھارت رتن اعزاز سے نوازا ہے تاکہ کانگریس کی جانب سے نرسمہا راؤ کو نظرانداز کرنے کے معاملہ کو عوام تک پہنچایا جائے۔ پی وی نرسمہا راؤ کی دختر بی آر ایس کی رکن اسمبلی ہیں اور بی جے پی میں نرسمہا راؤ خاندان کا کوئی فرد شامل نہیں ہے۔ بھارت رتن اعزاز کے بعد نرسمہا راؤ کے فرزند پی وی پربھاکر راؤ بی جے پی میں شمولیت کی تیاری میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی ہائی کمان نے پربھاکر راؤ کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ اگر راہول گاندھی تلنگانہ کے کسی حلقہ سے مقابلہ کرتے ہیں تو نرسمہا راؤ کے فرزند کو میدان میں اتار کر اصل مقابلہ کانگریس اور پی وی خاندان کے درمیان کردیا جائے گا۔ نرسمہا راؤ کے خاندان کو یہ شکایت ہے کہ کانگریس نے سابق وزیر اعظم کے دیہانت کے بعد ان کی آخری رسومات نئی دہلی میں انجام دینے کی اجازت نہیں دی۔ نرسمہا راؤ کی ارتھی کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر میں بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ اب جبکہ نرسمہا راؤ خاندان بھارت رتن اعزازکے بعد بی جے پی کے قریب آچکا ہے لہذا پارٹی نے راہول گاندھی سے مقابلہ کی نئی حکمت عملی تیار کی ہے۔ تلنگانہ سے راہول گاندھی کے مقابلہ کے بارے میں کل جمعرات کو صورتحال واضح ہوجائے گی کیونکہ دہلی میں اے آئی سی سی کی الیکشن اور اسکریننگ کمیٹی کا اجلاس مقرر ہے جس میں تلنگانہ امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دی جائے گی۔ کیرالا میں وائیناڈ لوک سبھا حلقہ انتخابی مفاہمت کے تحت سی پی آئی کو الاٹ کرنے کی اطلاع ہے اور سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈی راجہ کی اہلیہ آدی راجہ کی امیدواری کا اعلان کیا جاچکا ہے۔ ایسے میں راہول گاندھی اتر پردیش کے امیتھی کے علاوہ کسی اور نشست کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے پہلے سونیا گاندھی کو تلنگانہ سے مقابلہ کی دعوت دی تھی اور بعد میں راجیہ سبھا کی نشست کا پیشکش کیا گیا۔ سونیا گاندھی نے راجستھان سے راجیہ سبھا کیلئے انتخاب کو ترجیح دی۔ کانگریس نے راہول گاندھی کو کھمم، نلگنڈہ اور بھونگیر میں کسی ایک حلقہ سے مقابلہ کا پیشکش کیا ہے۔ اگر راہول گاندھی تلنگانہ سے مقابلہ کیلئے تیار ہوتے ہیں تو ان کا راست مقابلہ بی جے پی سے زیادہ نرسمہا راؤ خاندان سے رہے گا اور سارے ملک کی نظریں اس مقابلہ پر مرکوز ہوجائیں گی۔ بی جے پی کو یقین ہے کہ نرسمہا راؤ کے خاندان کو انتخابی میدان میں اتارنے سے تلنگانہ کی دیگر نشستوں پر اسے فائدہ ہوگا۔1