ضلعی کمیٹی کی تشکیل جدید میں حیدرآباد سے ہدایات قبول کرنے سے انکار، سرعرفات کیخلاف احتجاج
حیدرآباد۔5۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) مجلس اتحاد المسلمین کی قیادت کی پریشانیوں میں کمی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ مرزا رحمت بیگ کے ویڈیو سے شروع ہونے والا مسائل کا سلسلہ اب کریم نگر ضلع مجلس کی تشکیل جدید کے دوران ہنگامہ آرائی اور شہر حیدرآبادسے ضلع کریم نگر پہنچ کر نئی ضلعی کمیٹی تشکیل دینے والے قائدین کے خلاف شدید احتجاج کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ضلع کریم نگر ٹاؤن پریسیڈنٹ کے عہدہ کے لئے طویل عرصہ سے جاری سرد جنگ کو مرزا رحمت بیگ کے ’ہدایت‘ پر عمل نہ کرنے کے بعد ہوا ملنے لگی تھی اور آج پارٹی قائد یاسر عرفات کے خلاف کریم نگر میں پارٹی کارکنوں اور قائدین کے احتجاج کی شکل میں یہ آگ بھڑک اٹھی۔ رحمت بیگ کو مستعفی ہونے کی ہدایت کے بعد ان کے ہدایت پر عمل نہ کئے جانے کے معاملہ نے پارٹی کے ابتدائی صدور و معتمدین کے علاوہ کارکنوں کے حوصلہ میں اضافہ کردیا ہے اور وہ پارٹی کے خلاف بغاوت پر اترآئے ہیں۔ ضلع کریم نگر میں نئی ضلعی کمیٹی کی تشکیل کو ہوٹل کے بند کمرے میں انجام دیئے جانے کے خلاف جماعت سے تعلق رکھنے والے ابتدائی صدور و معتمدین کے علاوہ کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کے ضلعی عہدوں پر انتخابات کے ذریعہ صدرو دیگر کے انتخاب کو یقینی بنائے جانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ جمہوری انداز میں اگر کسی کو قیادت دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں پارٹی کارکنوں اور ذمہ داروں کو اعتراض نہیں ہوگا لیکن اگر حیدرآباد سے ’ہدایات‘ جاری کی جاتی ہیں تو ان پر عمل آوری کو یقینی بنانا اضلاع کے قائدین کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ جمہوری انداز میں اگر کسی کے انتخاب کو یقینی بنایا جاتا ہے تو وہ اسے اپنے صدر کے طور پر قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ کریم نگر سٹی کمیٹی میں سرگرم خدمات انجام دینے والے قائدین نے نئی کمیٹی کی تشکیل کے خلاف کہا کہ وہ حیدرآباد کے پارٹی قائدین یا کارکنوں کی طرح ہر حکم کی اتباع کرنے والوں میں نہیں ہیں وہ اپنے حقوق اور جمہوری عمل سے واقف ہیںاسی لئے غیر واجبی ’’ہدایات‘‘ پر عمل آوری نہیں کرتے بلکہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا جانتے ہیں۔بتایاجاتاہے کہ سید غلام احمد حسین ضلع صدر مجلس اتحاد المسلمین کے حامیوں نے انچارج کریم نگر مجلس پارٹی جناب یاسر عرفات جس ہوٹل میں نئی سٹی کمیٹی کی تشکیل کے سلسلہ میں اقدامات کر رہے تھے اس ہوٹل میں جبری طور پر داخل ہوتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی اور جماعت کے قائدین کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے ’جماعت‘ کے فیصلہ کو قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ۔3