ہندوستان کے پاس 190 اور پاکستان 170 نیوکلیر ہتھیاروں کا حامل، امن کا نعرہ لگانے والے نیوکلیر ہتھیاروں میں آگے
حیدرآباد۔ 10 جون (سیاست نیوز) دنیا کے مختلف ممالک میں جب کبھی جنگ چھڑ جائے تو فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ نیوکلیر ہتھیاروں کا معاملہ زیر بحث آجاتا ہے۔ بہت کم ممالک ایسے ہیں جو نیوکلیر طاقت کے ذریعہ اپنا دبدبہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ عام طور پر خود کو سپر پاور کے طور پر منوانے کی دوڑ میں شامل ممالک چھوٹے ممالک کو نیوکلیر طاقت بننے سے روکنے کے لئے ہر ممکن طریقے استعمال کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیوکلیر ہتھیاروں کو انسانیت کے لئے نقصاندہ قرار دینے والے ممالک خود اپنی نیوکلیر طاقت میں اضافے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان نیوکلیر مسئلہ پر ہی تنازعہ جاری ہے اور نوبت یہاں تک آگئی کہ امریکہ نے اسرائیل کی مدد سے ایران پر حملہ کیا۔ نیوکلیر طاقت کے حامل ممالک میں 9 ممالک ایسے ہیں جن کا شمار نیوکلیر ہتھیار رکھنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ نیوکلیر ہتھیاروں اور ممالک کے بارے میں تازہ ترین انکشافات کے تحت روس نیوکلیر ہتھیاروں کے معاملہ میں دنیا میں سرفہرست ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روس کے پاس 5515 نیوکلیر ہتھیار ہیں جبکہ 5100 نیوکلیر ہتھیاروں کے ساتھ امریکہ دوسرے نمبر پر ہے۔ فوجی طاقت کے اعتبار سے چین بھی ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا ہے لیکن اس کے پاس نیوکلیر ہتھیاروں کی تعداد 600 بتائی گئی ہے۔ فرانس 290 نیوکلیر ہتھیاروں کے ساتھ چوتھے اور برطانیہ 225 کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں 190 نیوکلیر ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان کے پاس نیوکلیر ہتھیاروں کی تعداد 170 بتائی گئی ہے۔ امریکہ کی سرپرستی کے باوجود اسرائیل کے پاس محض 90 نیوکلیر ہتھیار ہیں جبکہ دنیا کو اپنے نیوکلیر طاقت سے دھمکانے والے نارتھ کوریا کے پاس نیوکلیر ہتھیاروں کی تعداد 55 بتائی گئی ہے۔ نیوکلیر ہتھیاروں کے معاملہ میں امریکہ اور روس کی برتری پر مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں قیام امن کے دعویدار یہ ممالک خود تباہ کن ہتھیاروں کے معاملہ میں دوسروں سے آگے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے نیوکلیر ہتھیاروں کی تیاری کی حوصلہ شکنی کا مشورہ دیا ہے۔ 1؍F m/b/