گاڑیوں کے رجسٹریشن اور تمام سرکاری محکمہ جات میں ریاست کی نئی علامت کا استعمال ہوگا، اپوزیشن پارٹیوں کی تائید
حیدرآباد 2 اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی نے ریاست کیلئے TS کے بجائے TG کو اختیار کرنے قانون کو منظور دی ہے۔ وزیر اُمور مقننہ سریدھر بابو نے سرکاری اور عوامی شعبہ کے اداروں میں TG کے استعمال کے علاوہ گاڑیوں کے رجسٹریشن میں TS کے بجائے TG کے استعمال کا قانون پیش کیا جسے تمام پارٹیوں کی تائید سے منظور کرلیا گیا۔ سریدھر بابو نے بتایا کہ 2014 ء میں علیحدہ تلنگانہ کے قیام کے وقت مرکزی وزارت روڈ ٹرانسپورٹ نے گاڑیوں کے رجسٹریشن اور نمبر پلیٹ پر TG کے استعمال کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد اُس وقت کی حکومت کی درخواست پر نوٹیفکیشن میں ترمیم کرکے TG کے بجائے TS کے استعمال کو منظوری دی گئی اور مرکزی وزارت روڈ ٹرانسپورٹ نے 9 جون 2014 ء کو احکامات جاری کئے۔ سریدھر بابو نے کہاکہ تلنگانہ عوام کی طویل جدوجہد اور اُن کی اُمنگوں کے احترام میں حکومت نے TS کی جگہ TG کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ جس طرح دیگر ریاستوں کیلئے صرف 2 حرف پر مبنی نام الاٹ کئے گئے اُسی طرح تلنگانہ کیلئے TG اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ٹاملناڈو کیلئے TN، کیرالا کیلئے KL اور آندھراپردیش کیلئے AP، مدھیہ پردیش کیلئے MP، بہار کیلئے BR اور مہاراشٹرا کیلئے MH الاٹ ہوا ہے۔ ریاستی حکومت نے 4 فروری 2024 ء کو کابینہ اجلاس میں تمام سرکاری اُمور میں TG کے استعمال کا فیصلہ کیا۔ مرکزی وزارت نے 12 مارچ 2024 ء کو نوٹیفکیشن جاری کرکے ریاست میں گاڑیوں کے رجسٹریشن میں TS کے بجائے TG کے استعمال کی اجازت دی۔ اِس فیصلے کے تحت تمام محکمہ جات کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے نام میں TS کے بجائے TG کا استعمال کریں۔ ریاستی سطح کے عوامی شعبہ ادارے اور خود مختار اداروں کے علاوہ دیگر سرکاری ادارے اپنے دستاویزات، ویب سائٹ اور سرکاری مراسلتوں میں TG کا استعمال کریں گے۔ TG کے ذریعہ تلنگانہ اسٹیٹ کا تاثر پیدا کرنے قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا۔ بی آر ایس نے حکومت کے فیصلہ کی تائید کی۔ جبکہ مجلس کے جعفر حسین معراج نے کہاکہ عوامی مسائل کی یکسوئی پر توجہ دینے کے بجائے ناموں کی تبدیلی ٹھیک نہیں ہے۔ اُنھوں نے بی آر ایس حکومت کی کئی اسکیمات کا حوالہ دیا جن کے نام موجودہ حکومت نے تبدیل کردیئے ہیں۔ سی پی آئی کے سامبا سیوا راؤ نے فیصلے کی تائید کی۔ بی جے پی فلور لیڈر مہیشور ریڈی نے TG کے استعمال کی تائید کی تاہم شکایت کی کہ حکومت کے ایمبلم میں کاکتیہ حکومت کی یادگار کو ختم کردیا گیا جبکہ چارمینار کو برقرار رکھا گیا ۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت سے ایسا فیصلہ درست نہیں ہے۔ وزیر اُمور مقننہ سریدھر بابو نے وضاحتوں کا جواب دیا جس کے بعد بل کو منظوری دی گئی۔ 1