وزراء کو ہی نہیں معلوم کے ان محکموں میں کیا ہورہا ہے ۔ چیف منسٹر کا بیورو کریسی پر کنٹرول نہیں
حیدرآباد 16 جون : (سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کانگریس حکومت پر سنگین الزامات عائد کئے ۔ ریونت ریڈی ناکام چیف منسٹر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کوئی فلاحی اسکیم نہیں ہے بلکہ ہر طرف اسکامس کی بادشاہت قائم ہوچکی ہے ۔ اسمبلی حلقہ مانکنڈور میں بی آر ایس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ ہریش راؤ نے کانگریس کے دور کو ریاست کیلئے بڑی تباہی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزراء اے لکشمن اور پونم پربھاکر مجھے چیلنج کررہے ہیں کہ 2000 کروڑ روپئے کا اسکام کہاں سے آیا جب کہ وہ خود اس بات سے لاعلم ہیں کہ ان کے اپنے محکموں میں کیا کھچڑی پک رہی ہے ۔ ہریش راؤ نے واضح کیا کہ اقامتی اسکولس میں بچوں کے یونیفارم اور ٹائی کیلئے 1200 کروڑ روپئے کے ٹنڈرس طلب کئے گئے جبکہ نمک ، دال اور چکن کیلئے 800 کروڑ روپئے کے ٹنڈرس طلب کئے گئے اگر دونوں کو جمع کیا جائے 2000 کروڑ کے ٹنڈرس ہوتے ہیں ۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان وزراء کو اپنی ہی حکومت سے طلب کردہ ٹنڈرس کا علم نہیں ہے تو سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کس طرح کی حکومت چلا رہے ہیں ۔ ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کی انتظامی نا اہلی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خود چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعتراف کیا ہے کہ عہدیدار ان کی بات نہیں سن رہے ہیں ۔ یہ اس بات کا منھ بولتا ثبوت ہے کہ چیف منسٹر کا بیورو کریسی پر کوئی کنٹرول نہیں رہا اور حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوچکی ہے ۔ بی آر ایس قائدین اور کارکنوں پر جھوٹے مقدمات پر کا کہا کہ بی ار ایس گیڈر بھپکیوں ، دھمکیوں اور جھوٹے مقدمات سے بالکل نہیں ڈرے گی بلکہ پوری طاقت کے ساتھ عوامی جنگ لڑتے رہے گی ۔۔ 2/k/b