ریاست کی سرکاری یونیورسٹیز میں غیر ملکی طلبہ کی گھٹتی تعداد

   

عثمانیہ یونیورسٹی حکومت کی منظوری سے مختلف ممالک کے سفارتخانوں سے رابطہ پیدا کررہی ہے
حیدرآباد ۔ 7 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : ریاست کے سرکاری یونیورسٹیز میں ڈگری اور پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے غیر ملکی طلبہ کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں بیرونی ممالک کے طلبہ مختلف کورسیس میں داخلہ لیتے ہیں ۔ گذشتہ دو تین سال سے ان کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ۔ غیر ملکی طلبہ کی جانب سے ادا کی جانے والی فیس سے یونیورسٹیز کو کروڑہا روپیوں کی آمدنی ہوتی ہے ۔ ملک میں سب سے زیادہ غیر ملکی طلبہ کے تعلیم حاصل کرنے والی یونیورسٹیز میں عثمانیہ یونیورسٹی کا بھی شمار ہوتا ہے ۔ ایران ، عراق ، افغانستان کے بشمول افریقہ ، یوروپ اور امریکہ کے ساتھ 80 ممالک سے ہر سال 3 ہزار سے زیادہ طلبہ عثمانیہ یونیورسٹی ، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں داخلہ لیتے تھے ۔ موجودہ تعلیمی سال میں ان کی تعداد 1200 تک محدود ہوگئی ہے ۔ کورونا بحران سے قبل عثمانیہ یونیورسٹی میں ہر سال تقریبا 2 ہزار غیر ملکی طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے ۔ فی الحال 840 طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ کورونا سے قبل افغانستان کے 86 طلبہ نے داخلہ لیا تھا ۔ اس کے بعد ایک طالب علم نے بھی داخلہ نہیں لیا ہے ۔ کوویڈ کے بعد مختلف ممالک کی مالیاتی صورتحال تبدیل ہوگئی ۔ آن لائن میں سرٹیفیکٹ کورسیس دستیاب ہوجانے کی وجہ سے داخلے کم ہورہے ہیں ۔ دوران تعلیمی سال غیر ملکی طلبہ کے داخلوں کی تعداد کو بڑھانے کیلئے عثمانیہ یونیورسٹی کے عہدیدار ریاستی حکومت کی منظوری سے ایشیائی اور افریقی ممالک کے سفارت خانوں سے رابطہ پیدا کررہے ہیں ۔ آئندہ دو ماہ میں چند ممالک کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کانفرنس کا انعقاد کرنے کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں ۔ مرکزی حکومت کے زیر اہتمام کونسل برائے بین الاقوامی ثقافتی تعلقات غیر ملکی طلبہ کو ہمارے ملک کی یونیورسٹیز میں ڈگری ، پی جی اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو فیلو شپ فراہم کرتی ہے ۔ جب کہ مرکزی حکومت سالانہ 2000 فیلو شپ دیتی ہے ۔ لیکن بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات کو دیکھتے ہوئے اس کو گھٹا کر نصف کردیا گیا ہے ۔۔ 2