فیوچر سٹی کی مخالفت عوام کیلئے ناقابل قبول، ڈیولپمنٹ اتھاریٹی آفس کا افتتاح، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔11 ۔ جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت بھارت فیوچر سٹی کو عالمی معیار کی سہولتوں کے ساتھ ترقی دینے کا منصوبہ رکھتی ہے اور عنقریب یہ ایک عالمی شہر کے طور پر اپنی شناخت بنائے گا۔ بھارت فیوچر سٹی میں دنیا بھر کی 500 فارچیون کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے ۔ ریونت ریڈی فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے آفس کی افتتاحی تقریب کے بعد جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ فیوچر سٹی میٹرو پولیٹن شہروں کی طرح بہتر انفراسٹرکچر کے ذریعہ دنیا کیلئے رول ماڈل بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محض 150 دنوں میں فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے آفس کا افتتاح کیا جارہا ہے جو تیزی سے ترقی کی سمت ایک اہم پیش قدمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فیوچر سٹی کے ذریعہ تلنگانہ 2034 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کے نشانہ کو پورا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کیلئے اطراف کے بعض مواضعات کو فیوچر سٹی میں ضم کیا گیا۔ حیدرآباد کو آلودگی سے پاک شہر بنانے کیلئے حکومت کو عوام کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ فیوچر سٹی اتھاریٹی آفس کا دورہ کرتے رہیں گے جبکہ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا اور وزیر صنعت ڈی سریدھر بابو ہفتہ میں ایک دن فیوچر سٹی کی ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے ۔ چیف منسٹر نے فیوچر سٹی کے منصوبہ کو منسوخ کرنے سے متعلق بی آر ایس قائدین کی دھمکیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس فیوچر سٹی پراجکٹ میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر نے بیرونی دورہ کے موقع پر بھی فیوچر سٹی پراجٹ کی مخالفت کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اپوزیشن کی رکاوٹوں کے باوجود حکومت شہر اور اطراف کے علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تابناک مستقبل کی آج ہی بنیاد رکھی جارہی ہے اور آنے والی نسلوں کو فیوچر سٹی سے فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ایک عظیم تاریخ رکھتا ہے اور 200 سال قبل حیدرآباد کی توسیع کے نتیجہ میں سکندرآباد کے ساتھ یہ جڑواں شہر کے طور پر ترقی کر رہا ہے۔ ریاست کی 60 فیصد آمدنی حیدرآباد اور سکندرآباد سے حاصل ہوتی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ رنگا ریڈی ضلع کی اراضیات کی قیمت سونے سے زیادہ ہے۔ 1908 کے سیلاب میں بھاری جاری نقصان ہوا تھا اور اس وقت کے نظام نے موسیٰ ندی پر مختلف تعمیرات اور حفاظتی اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی ٹیک سٹی ، آؤٹر رنگ روڈ ، انٹرنیشنل ایرپورٹ اور جینوم ویلی جیسے منصوبوں کی بھی مخالفت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذکورہ پراجکٹس کی تکمیل نہ ہوتی تو 10 لاکھ لوگوں کو روزگار حاصل نہ ہوتا۔ انہوں نے کے سی آر پر تنقید کی اور کہا کہ فارم ہاؤز میں بیٹھ کر حکومت کے پراجکٹس کی مخالفت کے لئے دو قائدین کو آگے کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی فیوچر سٹی کو منسوخ کرنے کی بات کرے گا تو اسے آئندہ الیکشن میں اپوزیشن کا درجہ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور رنگا ریڈی میں لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے تاکہ سرکاری اراضیات اور جھیلوں کا تحفظ ہو۔ 1/k/m/b