ریاست کیلئے قرض، چیف منسٹر اور جوپلی کرشنا کے الگ الگ دعوے

   

کانگریس قائدین غلط اعداد و شمار کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہریش راؤ کا الزام
ll تضاد بیانی کے شکار جوپلی کرشنا سے استعفیٰ کا مطالبہ
ll کانگریس دور حکومت میں ریاست پر قرضوں کا بوجھ
ll وعدوں سے انحراف، اہم آبپاشی پراجکٹس نظرانداز
ll حیدرآباد کو پانی کی فراہمی بی آر ایس کے شروع کردہ پراجکٹس کا نتیجہ
سنگاریڈی۔ 3 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ٹی ہریش راو سابق وزیر و بی آر ایس پارٹی ڈپٹی فلور لیڈر اسمبلی نے کانگریس حکومت پر ریاست کو قرضوں کے بوجھ تلے دبانے، ترقیاتی پراجکٹس کو نظر انداز کرنے اور انتخابی وعدوں سے انحراف کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے وزراء خود اپنے بیانات میں تضاد کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر جوپلی کرشنا راؤ میں ذرہ برابر بھی اخلاقی جرات موجود ہے تو انہیں فوری طور پر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ وزیر جوپلی کرشنا راؤ پہلے مباحثہ کا چیلنج دیتے رہے پھر مقام تبدیل کرتے رہے اور اب سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کو بحث کے لیے دعوت دے رہے ہیں، جس سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر بی آئی کے مطابق دسمبر 2023 سے جون 2026 تک ریاستی حکومت نے ایف آر بی ایم کے تحت ایک لاکھ 86 ہزار 87 کروڑ روپے قرض حاصل کیا جبکہ جوپلی کرشنا راؤ نے اپنے مکتوب میں ایک لاکھ 77 ہزار 58 کروڑ روپے قرض حاصل کرنا بتایا۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے 18 مارچ 2026 کو ریاستی اسمبلی میں بتایا تھا کہ کانگریس حکومت نے اپنے 27 ماہ کے دورِ اقتدار میں 3 لاکھ 46 ہزار دو 94 کروڑ روپے قرض حاصل کیا ہے۔ ہریش راؤ نے سوال کیا کہ عوام کو بتایا جائے کہ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کا بیان درست ہے یا وزیر جوپلی کرشنا راؤ کا دعویٰ درست ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کا بیان صحیح ہے تو جوپلی کرشنا راؤ کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے دس سالہ دور حکومت میں 4.15 لاکھ کروڑ روپیہ کا قرض حاصل کیا تھا جس کی تصدیق کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی رپورٹ میں تفصیلات درج کرتے ہوے کی۔ اس کے باوجود کانگریس قائدین غلط اعداد و شمار پیش کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں سنگاریڈی ضلع کی ترقی کے لیے خصوصی ترقیاتی فنڈس منظور کیے گئے لیکن کانگریس حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ان فنڈس کو بھی روک دیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر پراجکٹ کے لیے فنڈس جاری نہ کیے تو بی آر ایس سنگاریڈی ضلع میں بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنے اور پدیاترا کا آغاز کرے گی۔ ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کو انتخابی وعدے پورے کرنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ماہانہ 2500 روپے مالی امداد، بزرگوں کو 4000 روپے پنشن، فیس ری ایمبرسمنٹ، پی آر سی اور دیگر اہم وعدے اب تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریاے موسیٰ کی صفائی اور خوبصورتی پر تو زور دیا جا رہا ہے، لیکن ملنا ساگر جیسے اہم آبپاشی پراجکٹس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جبکہ حیدرآباد کو پینے کے پانی کی فراہمی بی آر ایس حکومت کے دور میں شروع کیے گئے پراجکٹس کا نتیجہ ہے۔ اجلاس میں سنگاریڈی ضلع بی آر ایس صدر و رکن اسمبلی چنتا پربھاکر، ارکان اسمبلی مانک راؤ، سنیتا لکشما ریڈی، سابق ارکان اسمبلی کرانتی کرن، ششی دھر ریڈی، سابق چیرمین ایرّولا سرینواس، ایم اے حکیم، ایم راجندر، چنتا سائی اور پارٹی کے دیگر قائدین و کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔