ریاست کے لا اینڈ آرڈر کا حکومت نے سخت نوٹ لیا

   

جینور ، لگچرلہ اور دیگر واقعات پر ناراضگی ، محکمہ پولیس کے لیے عنقریب رہنمایانہ خطوط کی اجرائی
حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں حالیہ دنوں لا اینڈ آرڈر کی ابتر صورتحال بالخصوص جینور ، لگچرلہ اور دیگر واقعات کا حکومت نے سخت نوٹ لیا ہے ۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہونے کی سخت ہدایت دی ہے جس کے بعد محکمہ پولیس کی جانب سے پولیس عہدیداروں کو متحرک کرنے کے لیے رہنمایانہ خطوط تیار کئے جارہے ہیں ۔ کانگریس حکومت ایک طرف اپنا ایک سالہ جشن منا رہی ہے ۔ مختلف محکمہ جات کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے علاوہ ایک سال تک کئے گئے ترقیاتی اقدامات کی ایک رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ساتھ ہی یکم تا 9 دسمبر تک مختلف ترقیاتی پروگرامس کے سنگ بنیاد رکھنے افتتاح کرنے والے پراجکٹس کا شیڈول تیار کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں جس میں تمام محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیدار مصروف ہیں ۔ اس طرح کی چند ہدایتیں محکمہ پولیس کو بھی جاری کرنے کا علم ہوا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ضلع وقار آباد کے لگچرلہ میں کلکٹر اور دیگر عہدیداروں پر حملہ جینور میں ہندو مسلم کشیدگی کے علاوہ ریاست کے دیگر مقامات پر اس طرح کے واقعات کا حکومت نے سخت نوٹ لیا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست کے مختلف مقامات پر احتجاج اور پولیس کے رول پر بھی کڑی نظر رکھی گئی ہے ۔ جینور کے علاوہ شمالی تلنگانہ کے ایک اور ضلع میں جھڑپیں ہوئی ۔ اس طرح کے واقعات منظر عام پر آئے وقت پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی بروقت عدم دستیابی کو غیر ذمہ دارانہ عمل تصور کیا جارہا ہے ۔ اس تناظر میں محکمہ پولیس کی جانب سے چند رہنمایانہ خطوط تیار کئے جارہے ہیں اور فیلڈ اسٹاف کو جوابدہ بنانے ، تنازعات کو بروقت حل کرنے کے بارے میں خصوصی تجاوز پیش کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ فیلڈ سطح پر خدمات انجام دینے والے نوجوان آئی پی ایس آفیسرس کی تجربہ میں کمی بہت بڑا چیلنج بن گئی ہے ۔ ماضی میں ریاستی کیڈر کو مختص کئے جانے والے آئی پی ایس آفیسرس کو کم از کم تین سال تک اے ایس پی کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد ضلع ایس پی کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی ۔ چند برسوں سے ریاستی کیڈر میں تفویض کردہ آفیسرس کو کئی سالوں تک کوئی پوسٹنگ نہیں دی گئی ۔ تنخواہ حاصل کرنے میں انہیں کوئی مشکلات پیش نہ آنے کے لیے گرے ہانڈس سے منسلک کردیا گیا جس کی وجہ سے انہیں فیلڈ سطح پر کام کرنے کا موقع نہیں ملا ۔ ایسے آئی پی ایس عہدیدار اضلاع کو روانہ ہورہے ہیں تو ایمرجنسی حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہورہے ہیں ۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ کوئی بھی واقعہ پیش آنے پر سوشیل میڈیا پر چلائی جانے والی گمراہ کن مہم بھی زیادہ نقصان پہونچا رہی ہے ۔ جو کشیدگی کا سبب بن رہی ہے ۔ گمراہ کن مہم چلانے والے سوشیل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھنے اور حقائق کو عوام تک پہونچانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے جیسے امور پر سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔۔ 2