قتل کے معاملات میں ملوث ہونے کو ثابت کیا جائے، بی آر ایس رکن کے خلاف چیف منسٹر کے سنگین ریمارکس
حیدرآباد 29 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں آج ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور بی آر ایس رکن جگدیش ریڈی نے ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہوئے الزامات ثابت کرنے پر اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ برقی اور دیگر محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث کے دوران چیف منسٹر ریونت ریڈی نے جب جگدیش ریڈی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ جگدیش ریڈی کی تاریخ سے ریاستی وزیر وینکٹ ریڈی اچھی طرح واقف ہیں۔ جگدیش ریڈی نے ریمارک کیا تھا کہ اُنھیں تلنگانہ تحریک کے دوران مقدمات کے تحت چنچل گوڑہ جیل جانے کا تجربہ ہوا جبکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے چرلہ پلی جیل جاچکے ہیں۔ اس کے جواب میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اسپیکر سے خواہش کی کہ وزیر عمارات و شوارع وینکٹ ریڈی کو اظہار خیال کا موقع دیا جائے۔ وینکٹ ریڈی نے کہاکہ جگدیش ریڈی سابق میں قتل کے 3 معاملات میں ملزم رہ چکے ہیں۔ اُنھوں نے مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کئی برسوں تک جگدیش ریڈی عدالت کے چکر کاٹ چکے ہیں۔ اُنھوں نے دھوکہ دہی کے ایک معاملہ میں بھی جگدیش ریڈی کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ وینکٹ ریڈی نے کہاکہ قتل کے مقدمات میں جگدیش ریڈی 16 برسوں تک عدالتوں کے چکر کاٹ چکے ہیں۔ وینکٹ ریڈی کے الزامات پر جگدیش ریڈی نے کہاکہ کانگریس حکومت نے اُنھیں قتل کے 3 معاملات میں ملوث کیا تھا لیکن عدالت سے وہ بری ہوچکے ہیں۔ اُنھوں نے وینکٹ ریڈی کو چیلنج کیاکہ اگر ایک بھی الزام کو درست ثابت کردیں تو وہ اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیں گے اور اگر الزامات ثابت نہیں کئے جاسکے تو ریونت ریڈی اور وینکٹ ریڈی کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ ریاستی وزیر وینکٹ ریڈی نے اِس چیلنج کو قبول کیا اور جگدیش ریڈی سے کہاکہ وہ استعفے کی تیاری کرلیں۔ اُنھوں نے اسپیکر سے خواہش کی کہ ایس پی نلگنڈہ سے جگدیش ریڈی پر مقدمات کی تفصیلات حاصل کی جائیں۔ جگدیش ریڈی نے الزامات کی جانچ کے لئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ مطالبات زر پر تقریر کررہے تھے لیکن چیف منسٹر ریونت ریڈی نے الزام تراشی کی ہے۔ وینکٹ ریڈی نے کہاکہ متحدہ نلگنڈہ ضلع کا ہر بچہ جگدیش ریڈی کی بے قاعدگیوں سے واقف ہے۔ 1