ریاستی کابینہ میں آئندہ ماہ ردوبدل کا امکان، چیف منسٹر کی قائدین سے مشاورت

,

   

3 نئے وزراء کی شمولیت پر غور، گریٹر حیدرآباد سے نمائندگی میں اضافہ ، الیکشن کابینہ کی تیاری
حیدرآباد۔/25 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بی آر ایس کی سرگرمیوں کو پڑوسی ریاستوں میں توسیع دینے کے ساتھ ساتھ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے کیلئے کابینہ میں تبدیلی کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ الیکشن کابینہ تشکیل دی جائے جو بی آر ایس کی ہٹ ٹرک کو یقینی بنا سکے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے سنکرانتی کے بعد کسی بھی وقت کابینہ میں تبدیلی کی منصوبہ بندی کرلی ہے اور اس سلسلہ میں بااعتماد رفقاء سے مشاورت کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے وزراء اور ارکان اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے انفرادی طور پر سروے کا اہتمام کیا تھا۔ ایسے وزراء جن کی کارکردگی غیراطمینان بخش ہے انہیں کابینہ سے علحدہ کرتے ہوئے نئے چہروں کو شامل کیا جاسکتا ہے تاکہ الیکشن میں بہتر طور پر مقابلہ کیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ابتداء میں کابینہ میں تبدیلی کے حق میں نہیں تھے لیکن سروے رپورٹس اور بعض وزراء کے خلاف عوامی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے سنکرانتی کے بعد کابینہ میں تبدیلی کا مہورت تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر تبدیلی کے موقع پر راجندر کے اخراج سے مخلوعہ کابینی نشست کو بھی پُر کریں گے۔ راجندر کی علحدگی کے بعد سے کابینہ میں ایک نشست خالی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر تقریباً 3 وزراء کو علحدہ کرتے ہوئے نئے چہروں کو شامل کریں گے اور وہ چہرے بی جے پی سے مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ دلت اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے جن ارکان کی شمولیت کی پیش قیاسی کی جارہی ہے ان میں سابق اسپیکر مدھو سدن چاری، رکن کونسل کے سری ہری اور گورنمنٹ وہپ بی سمن شامل ہیں۔ ان تینوں کا شمار کے سی آر کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر کو علحدہ کیا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں وزیر لیبر ملاریڈی کے خلاف بی آر ایس کے 5 ارکان اسمبلی نے بغاوت کردی تھی۔ ذرائع کے مطابق شہر کے ایک رکن اسمبلی کو شامل کرنے کی تجویز ہے تاکہ گریٹر حیدرآباد میں بی آر ایس کا موقف مستحکم کیا جاسکے۔ کریم نگر میں 2 ریاستی وزراء کے درمیان گروپ بندیوں پر چیف منسٹر نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے تاہم وہ کابینہ میں تبدیلی کے وقت ان میں سے کسی ایک کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ 15 جنوری کے بعد کسی اچھے مہورت کے تحت نئے سکریٹریٹ کامپلکس کے افتتاح کی تیاری ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں 20 جنوری کی تاریخ پارٹی حلقوں میں گشت کررہی ہے لیکن چیف منسٹر نے ابھی تک تاریخ طئے نہیں کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر بی جے پی سے مقابلہ کیلئے ضرورت پڑنے پر حال ہی میں ارکان اسمبلی خریدی اسکام سے تعلق رکھنے والے 4 ارکان اسمبلی میں سے کسی ایک کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ جنوری کے آخری ہفتہ یا پھر اوائل فروری میں کابینہ میں توسیع کا امکان ہے۔ر