زرعی قوانین کے خلاف تلنگانہ میں بھارت بند کامیاب اور پرامن

,

   

بسیں ڈپوز تک محدود، دوکانات دوپہر تک بند، وزراء اور ٹی آر ایس کے ساتھ اپوزیشن کا بھی احتجاج

حیدرآباد: تلنگانہ میں بھارت بند پرامن اور مکمل کامیاب رہا ہے۔ تمام وزراء نے سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا ۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ کسان کوئی دہشت گرد نہیں ہیں ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے تمام ا ضلاع میں بند کامیاب رہا ہے۔ تاجرین نے رضاکارانہ طور پر اپنی تجارتی سرگرمیاں دوپہر تک بند رکھتے ہوئے کسانوں کے احتجاج سے مکمل اظہار یگانگت کیا ۔ کانگریس ، تلگودیشم ، کمیونسٹ جماعتوں سی پی آئی ، سی پی آئی ایم ، ٹی جے ایس کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں اور ٹریڈ یونین تنظیموں نے بند میں حصہ لیا ۔ مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف کسان تنظیموں نے آج بھارت بند کا اعلان کیا تھا ۔ اس بند کو حکمراں ٹی آر ایس کی تائید کے باعث تلنگانہ میں پرامن اور مکمل بند منایا گیا۔ ریاست کے کئی مقامات پر حالات کشیدہ ہو نے کی بھی اطلاع ہے ۔ بھارت بند کے باعث آر ٹی سی بسیں ڈپوز تک محدود رہیں ۔د وپہر تک شہر اور مضافات کی سڑکیں سنسان نظر آرہی تھی۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے شاد نگر میں بورگل ٹول گیٹ کے پاس منظم کردہ احتجاج میں حصہ لیا ۔ اس میں ریاستی وزیر سرینواس گوڑ ، رکن راجیہ سبھا کے کیشور راؤ ، سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی کے علاوہ دوسروں نے شرکت کی ۔ کے ٹی آر نے مرکزی حکومت پر کسانوں کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا ۔ کے ٹی آر ایک پلے کارڈ تھا مے ہوئے تھے جس پر’’ کسان دہشت گرد نہیں‘‘ کا نعرہ تحریر تھا۔

کے ٹی آر نے کہا کہ ٹی آر حکومت اس احتجاج میں مکمل طور پر کسانوں کے ساتھ ہے ۔ ریاستی وزیر زراعت نرنجن ریڈی نے عالم پور نیشنل ہائی وے پر ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ توپران ، ریاستی وزیر اینیمل ہیسبنڈری ٹی سرینواس یادو ، ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی حیدرآباد میں‘ ٹی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کاماریڈی‘ ریاستی وزیر ای دیاکر راؤ ، ہنمکنڈہ ، ورنگل ہائے وے‘ ریاستی وزیر کے ایشور جگتیال کے علاوہ مختلف مقامات پر ریاستی وزراء اور ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی‘ ارکان پارلیمنٹ ، ارکان قانون ساز کونسل کے علاوہ ٹی آر ایس کے قائدین و کارکنوں نے بند اور احتجاج میں حصہ لیا ۔ کانگریس کے قائدین نے ریاست کے مختلف مقامات پر احتجاج میں حصہ لیا ۔ کئی مقامات پر راستہ روکو احتجاج منظم کیا گیا جس سے ٹریفک مسائل پیدا ہوگئے ۔ کریم نگر میں احتجاج کے دوران کانگریس اور ٹی آر ایس کارکنوں کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی ۔ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے احتجاجیوں کو منتشر کردیا ۔ کئی مقامات پر عوام نے بھی ٹی آر ایس کے احتجاج پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پہلے تلنگانہ حکومت کی جانب سے کسانوں کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا ۔

ریاستی وزیر لیبر ملا ریڈی نے میڑچل ہائی وے پر بیل بنڈی پر سوار ہوکر احتجاج کیا ۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے ضلع نلگنڈہ کے کیتی پلی میں سڑک پر بیٹھ کر احتجاج میں حصہ لیا ۔ کمیونسٹ جماعتوں کے قائدین نے کوٹھی ویمنس کالج کے قریب احتجاج میں حصہ لیا ۔ قائدین اور کارکنوں نے انوکھا طریقہ اختیار کرتے ہوئے مودی اور امیت شاہ کے فیس ماسک کے ساتھ احتجاج میں حصہ لیکر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے مرکزی حکومت کسانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ضلع کریم نگر میں کانگریس کارکنوں نے ریاستی وزیر کے ایشور کی گاڑی کا گھیراؤ کرتے ہوئے ریاستی میں باریک چاول کی کاشت کرنے والے کسانوں سے انصاف کرنے کا مطالبہ کیا جس سے تھوڑی کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند اور رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے بند میں ٹی آر ایس احتجاج کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ٹی آر ایس حکومت وعدے کے مطابق کسانوں کے ایک لاکھ روپئے تک قرض معاف کر ے اور باریک چاول کی کاشت کرنے والے کسانوں کو اقل ترین قیمت ادا کرے۔ بی جے پی کے دونوں قائدین نے ٹی آر ایس پر کسانوں کے احتجاج سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے اور مرکزی حکومت کے خلاف عوام کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ۔