زلزلے سے تباہی پر شام نے مدد کی درخواست کی تھی: نتن یاہو

   

تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ’’سفارتی‘‘ چینلز کے ذریعہ شام نے گذشتہ روز آنے والے زلزلے میں مدد کیلئے درخواست کی تھی۔ شام کی اس درخواست پرعمل درآمد کیا گیا ہے تاہم دمشق نے اسرائیلی وزیراعظم کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔نتن یاہو نے اپنی لیکوڈ پارٹی کے ارکان کنیسٹ کو بتایا کہ اسرائیل کو “ایک سفارتی ذریعے سے شام کو انسانی امداد فراہم کرنے کی درخواست موصول ہوئی تھی اور میں نے اس سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی امداد روانہ کر دی جائے گی۔ان کے دفتر نے ’’سفارتی ذریعہ‘‘ کے بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔تاہم شام کے ایک سرکاری ذریعے نے میڈیا کو امدادی کاموں میں مدد کیلئے شام کی جانب سے اسرائیل سے کی گئی درخواست کے بارے میں اسرائیلی حکام کے الزامات کی تردید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمن کے میڈیا میں شائع ہونے والی ہر چیز اپنے وزیر اعظم کیلئے ایک پروپیگنڈہ مہم سے زیادہ کچھ نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شام ایسے ملک سے کسے مدد مانگ سکتا ہے جس نے گذشتہ دہائیوں اور سالوں میں شامیوں کو مارا اور ان کے قتل میں حصہ لیا۔ پیر کے روز شام اور ترکیہ سمیت خطے کے کئی ممالک میں آنے والے زلزلے سے بڑی تعداد میں اموات ہوئی ہیں۔