سافٹ ویر ٹکنالوجی پارکس کے الاٹمنٹس میں تلنگانہ نظرانداز

   

وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر کا مرکزی وزیر آئی ٹی کو احتجاجی مکتوب، برہمی کا اظہار

حیدرآباد 16 اپریل (سیاست نیوز) ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے سافٹ ویر ٹکنالوجی پارک آف انڈیا (ایس ٹی پی آئی) کے الاٹمنٹ میں ریاست تلنگانہ سے امتیازی سلوک کرنے کا مرکزی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ مرکزی حکومت نے ملک کے مختلف ریاستوں اترپردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، کرناٹک، ہماچل پردیش، ہریانہ، اروناچل پردیش، اڈیشہ، بہار، پنجاب، جھارکھنڈ اور کیرالا کے لئے 22 (ایس ٹی پی آئیز) مختص کیا ہے۔ مگر تلنگانہ کو ایک (ایس ٹی پی آئی) بھی مختص نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس سلسلہ میں مرکزی وزیر آئی ٹی اشونی ویشنو کو ایک مکتوب روانہ کیا۔ ملک کے آئی ٹی شعبہ میں غیرمعمولی مظاہرہ کرنے والی ریاستوں میں تلنگانہ کا شمار ہوتا ہے۔ ترقی کی شرح چند برسوں سے قومی سطح سے اوپر رہی ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ سال 2014-15 ء میں 57,258 کروڑ روپئے کی آئی ٹی برآمدات تھی جو اب بڑھ کر 1,45,522 کروڑ روپئے تک پہونچ گئی ہے۔ آئی ٹی شعبہ میں ملازمین کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ اپنے مکتوب میں کے ٹی آر نے بتایا کہ فی الحال تلنگانہ کے آئی ٹی شعبہ میں 6,28,000 سے زائد ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ مستقبل میں تجارتی ترقی اور دفاتر کی جگہ کے لحاظ سے تلنگانہ بار بار بنگلور کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ آئی ٹی شعبہ کی ترقی کے لئے ریاست تلنگانہ کئی پالیسی ساز فیصلے کئے ہیں۔ مختلف شعبوں جیسے الیکٹرانکس، رورل ٹیکنالوجی، امیج، ڈاٹا سنٹر میں اسپیشل پالیسی تیار کرتے ہوئے آئی ٹی شعبہ کو ترقی دینے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ن