سبط رسول ؐحضرت امام حسن رضی اللہ عنہ

   

ابوزہیر حافظ سید زبیر ہاشمی نظامی
خلیفۂ چہارم حضرت سیدنا علی مرتضی و سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہما کے گلشن کے مہکتے پھول، اپنے نانا جان، رحمت عالم ﷺکی آنکھوں کے نور، راکبِ دوشِ مصطفےٰ (حضور ﷺ کے مبارک کندھوں پر سواری کرنے والے)، سردار اُمت، حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادتِ باسعادت ۱۵؍رمضان المبارک ۳ ؍ ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ (البدايۃوالنہایہ)
آپ رضی اللہ عنہ کا نام حسن کنیت’’ابو محمد‘‘، لقب ”سبطِ رسول اللہ“ (رَسول اللہ کے نواسے)اور”ریحانۃُ الرسول“ (رسول اللہ ﷺ کے پھول) ہے۔ (تاریخ الخلفاء)
نبی کریم ﷺ نے آپ ؓکے کان میں اذان کہی۔ (معجم کبیر) نبی کریم ﷺ نےآپ ؓکے عقیقے میں دو دنبے ذبح فرمائے۔ (نسائی)حضورِ اکرم ﷺ آپؓ سے بے پناہ محبت تھی۔ حضور ﷺ آپؓ کو کبھی اپنی آغوشِ شفقت میں لیتے تو کبھی مبارک کندھے پر سوار کئے ہوئے گھر سے باہر تشریف لاتے، آپؓ کی معمولی سی تکلیف پر بےقرار ہوجاتے، آپؓ کو دیکھنےاور پیار کرنے کے لئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ آپؓ بھی اپنے نانا جان ﷺ سے بے حد مانوس تھے۔ نماز کی حالت میں پشت مبارک پر سوار ہو جاتے تو کبھی داڑھی مبارک سے کھیلتے، لیکن آپ ﷺنے انہیں کبھی نہیں جھڑکا۔ ایک مرتبہ آپؓ کو حضور ﷺکےشانۂ مبارک پرسوار دیکھ کر کسی نے کہا: صاحبزادے! آپ کی سواری کیسی اچھی ہےتو نبی کریم ﷺنے فرمایا: سواربھی تو کیسا اچھا ہے۔ ( ترمذی)
حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت حسنؓ سے بڑھ کرکوئی بھی حضور ﷺسے مُشابہت رکھنے والا نہ تھا۔ (بخاری) آپؓ نے حضرت امیر معاویہ ؓسےصلح فرما کر اپنے نانا جان ﷺ کے اس فرمان کو عملاً پورا فرمایاکہ میرایہ بیٹا سردار ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی بدولت مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح فرمائے گا۔( بخاری)
آپؓ نہایت رحم دل،سخی، عبادت گزار اور عفوودرگزر کے پیکر تھے۔ آپؓ فجر کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک ٹیک لگاکر بیٹھ جاتے اور مسجد میں موجود لوگوں سے دینی مسائل پر گفتگو فرماتے۔ جب آفتاب بلند ہوجاتا تو چاشت کی نماز ادا فرماتے۔ اس کے بعد اُمہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے گھر تشریف لے جاتےتھے۔ اور آپؓ کثرت سے صدقہ و خیرات فرماتے حتی کہ دو مرتبہ اپنا سارا مال اور تین مرتبہ آدھا مال را ہِ خدا میں صدقہ فرمایا۔ (ابن عساکر)
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسنؓ سینہ سے سرتک نبی کریم ﷺ کی کامل شبیہ ہیں اور حضرت امام حسینؓ سینہ سے نیچے تک حضور ﷺ کی کامل شبیہ ہیں ۔ ( ترمذی)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس سے خصوصی تعلق ہے،انہیں اہل بیت نبوت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور وہ صحابیت کے شرف سے بھی مشرف ہیں۔ اسی وابستگی وتعلق کے سبب اللہ تعالی نے انہیں حق وصداقت کا پیکر بنایا، وہ گفتار وکردار کے پاکیزہ ہیں اور ان کا ہر طریقۂ کار بے مثل وبے مثال اور امت کےلئے عمدہ نمونہ ہے،ان کی تابناک زندگی امت کے لئے مشعل راہ ہے۔حضرات امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما یہ دونوں نام اہل جنت کے اسماء سے ہیں اور قبل اسلام عرب نے یہ دونوں نام نہ رکھے ۔شہادت: آپ رضی اللہ عنہ نے ۵؍ربیع الاول ۴۹؁ ہجری کو مدینۂ منورہ میں شہادت کا جام نوش فرمایا۔