سدھاپور ڈمپنگ یارڈ معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش

   

شادنگر چوراہے پر کانگریس قائدین کا عوامی اجتماع ۔ ویرلا پلی شنکر و دیگر کا عوام سے خطاب

شادنگر ۔ 8 جولائی ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) شادنگر ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر نے کہا کہ وہ نچلے طبقہ سے تعلق رکھتے ہوئے سیاسی طور پر ترقی کرتے ہوئے پہلے منڈل پارٹی صدر، پھر گاؤں کے سرپنچ اور بعد میں عوام کی تائید وحمایت سے ایم ایل اے بنا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اس ترقی کو دیکھ کر حلقہ کے دو رہنما برداشت نہیں کر پا رہے اور ان پر بے بنیاد الزامات لگا کر سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان رہنماؤں کی تاریخ اور کردار سے بخوبی واقف ہیں اور جلد ہی عوام ہی ان کی ’’گھٹیا سیاست‘‘ کا جواب دیں گے۔ محبوب نگر ایم ایل سی نوین کمار ریڈی کی جانب سے میڈیا کے سامنے لگائے گئے الزامات کے خلاف کانگریس پارٹی کی اپیل پر شادنگر چوراہے پر عوامی اجتماع منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر کانگریس کارکنان بڑی تعداد میں ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر کی حمایت میں جمع ہوئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے پر پھول چڑھایا گیا ، جس کے بعد ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر اور دیگر رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔ ایم ایل اے شنکر نے کہا کہ وہ نوین ریڈی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کے لیے یہاں آئے ہیں اور اگر ان میں ہمت اور ایمانداری ہے تو 50 کروڑ روپے رشوت لینے کے الزامات کو ثبوتوں کے ساتھ ثابت کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام جانتی ہے کہ وہ اس مقام تک کس طرح پہنچے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ نوین ریڈی کی سیاسی تاریخ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوین ریڈی کے ساتھ کچھ لوگ یعنی بی جے پی پارٹی سے تعلق رکھنے والے قائد شامل ہو کر ڈرامہ کر رہے ہیں اور گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران خواتین کو سونے کی چینیں دینے کا وعدہ کرکے دھوکہ دیا گیا تھا ، جس کے باعث آج بھی خواتین ان سے اپنے وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ایم ایل اے نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کے بعض رہنما مل کر سدھاپور ڈمپنگ یارڈ معاملے کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں اور حکومت کے خلاف احتجاج کو ہوا دینے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں سابق بی آر ایس حکومت نے حیدرآباد کے باہر صنعتی علاقہ قائم کرنے کے منصوبے کے تحت سدھاپور میں صنعتی سرگرمیوں کے قیام کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سرکاری تحقیقات جاری ہیں اور جو لوگ بدعنوانی میں ملوث پائے جائیں گے ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 80 جعلی کسانوں کے نام پر 9 کروڑ روپئے سے زائد وصول کرنے والے بی آر ایس رہنما نہیں تھے؟ اور کیا یہی لوگ کل نوین ریڈی کے ساتھ احتجاج میں شریک نہیں تھے ؟ انہوں نے کہا کہ بدعنوان عناصر کو ساتھ لے کر ایک عوامی نمائندے پر رشوت لینے کے الزامات لگانا مناسب نہیں ہے۔ ایم ایل اے ویرلاپلی شنکر نے واضح کیا کہ اگر سدھاپور مسئلے پر تمام سیاسی جماعتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام اور کسانوں کے مفاد کے لیے ایک آل پارٹی کمیٹی تشکیل دیتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ مل کر مسئلے کے حل کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی رہنما اپنے مفادات کے لیے اس مسئلے کو استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں۔اس پروگرام میں سدھاپور اور مختلف منڈلوں کے متعدد رہنماؤں، سرپنچوں، کونسلروں، خواتین رہنماؤں اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔