سرکاری افطار پارٹیوں اور رمضان تحائف سے دور رہنے کی مہم

   

تقاریب کا بائیکاٹ کرنے پر زور، حکومت کا مسلمانوں کے ساتھ فریبی رویہ پر ردعمل

حیدرآباد ۔ 9 اپریل (سیاست نیوز) ماہ رمضان المبارک میں سرکاری افطار پارٹیوں اور رمضان تحائف سے دور رہنے کی مہم کا سوشل میڈیا پر آغاز ہوچکا ہے اور سخت انداز میں ان سرکاری تقاریب کا بائیکاٹ کرنے کی بھی مہم جاری ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے افطار کیلئے 8 کروڑ اور رمضان تحائف کیلئے 21 کروڑ روپیوں کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔ مسلم سماج میں اس اجرائی رقم سے بڑی بے چینی پائی جاتی ہے اور سوشل میڈیا و دیگر ابلاغی ذرائع سے عوام اس بات کا اظہار کررہے تھے۔ حکومت نے مسلمانوں کی حقیقی بہبود کو سمجھا ہی نہیں یا پھر عملاً مسلمانوں کوبہلائے رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سرکار سے نہیں سرکاری پالیسی سے بھی ناراضگی ظاہر کی جارہی ہے۔ عوام کا کہنا ہیکہ گذشتہ دو سال کے عرصہ سے اسٹیٹ مائناریٹی فینانس کارپوریشن قرضہ جات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ مسلمانوں کو خود روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے بجائے سال میں ایک مرتبہ خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا کے تبصرے اور مہم سے پتہ چلتا ہیکہ عوام میں یقیناً افطار پارٹیوں کے انعقاد اور رمضان تحائف سے کوئی خوشی نہیں ہے بلکہ اس اقدام کو دل بہلانے والی کوشش تصور کیا جارہا ہے۔ عوام سخت معاشی بحرانی کا شکار ہیں۔ 4 سال کے عرصہ سے مسلم نوجوانوں میں کوئی قرضہ جات تقسیم نہیں کئے گئے۔ رمضان کیلئے جاری کردہ 29 کروڑ روپئے سے مسلم نوجوانوں کے روزگار کیلئے مثالی اقدامات کئے جاسکتے ہیں لیکن ایسا ظاہر ہوتا ہیکہ حکومت کو مسلمانوں کی ترقی میں دلچسپی نہیں یا پھر سرکاری عہدیدار حکومت تک اس پالیسی کو نہیں پہنچاتے۔ افسوس کہ پارٹی کے مسلم قائدین میں اکثر طور پر مسلمانوں کے حقیقی مسائل کی یکسوئی اور حل کیلئے مؤثر اقدامات سے قاصر ہیں جبکہ اپنے مسائل بھی پیش نہیں کرسکتے۔ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کی جانب سے حکومت کو اس کے علاوہ یاد دلاتے جارہے ہیں۔ 12 فیصد تحفظات، سبسیڈی اسکیمات، وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات مسلم خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات کی یاد دہائی کروائی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا کے تبصروں میں دلچسپ بات یہ ہیکہ ریاست کے مسلمان کسی ایک مسلم خاندان کی ترقی یا پھر مسلم چہرے کو چمکانے سے خوش ہونے والے نہیں بلکہ ساری مسلم کمیونٹی کیلئے فلاحی اقدامات کو اہمیت دیتے ہیں اور حکومت سے اس بات کی امید کی جارہی ہے اور جاریہ سال افطار پارٹیوں اور رمضان تحائف سے دور رہنے کی اپیل زور پکڑ گئی ہے۔ع