سرکاری ملازمین کے قائدین نے کے سی آر سے سودہ بازی کرلی

   

اتم کمار ریڈی کا الزام، ملازمین کے مفادات نظر انداز
حیدرآباد: صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی نے سرکاری ملازمین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی یونینوں کے قائدین کے خلاف بغاوت کریں جنہوں نے ملازمین کے مفادات پر حکومت سے سودہ بازی کرلی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ملازمین کے نمائندوں نے چیف منسٹر کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ایم ایل سی الیکشن میں ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کرتے ہوئے ملازمین کو دھوکہ دیا ہے ۔ نلگنڈہ اور حیدرآباد ایم ایل سی انتخابی مہم کے سلسلہ میں اتم کمار ریڈی نے آج مختلف علاقوں میں جلسوں سے خطاب کیا ۔ رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور پارٹی امیدوار راملو نائک کے ہمراہ اتم کمار ریڈی نے وکلاء اور سرکاری ملازمین کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یونین کے قائدین شخصی مفادات کیلئے ملازمین کے مفادات کو حکومت کے پاس گروی رکھ چکے ہیں۔ یونین کے قائدین نے ٹی آر ایس قائدین کی طرح رول ادا کرتے ہوئے خود کو حکومت کے غلام ثابت کردیا ہے ۔ نئے پی آر سی پر عمل آوری اور 43 فیصد فٹمنٹ کیلئے حکومت پر دباؤ بنانے کے بجائے یونین کے نمائندوں نے معمولی اعلانات پر اکتفا کرلیا ۔ اتم کمار ریڈی نے پرگتی بھون میں چیف منسٹر اور یونین قائدین کی ملاقات پر سوال ا ٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے چیف منسٹر نہیں بلکہ ٹی آر ایس کے صدر کی حیثیت سے سرکاری ملازمین سے تائید کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو دھوکہ دینے کیلئے کے سی آر نے یونین قائدین کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے ۔ ایم ایل سی الیکشن میں تائید کے عوض یونین قائدین کو ایم ایل سی نشستوں کا وعدہ کیا گیا ۔ انہوں نے ملازمین سے اپیل کی کہ وہ یونین قائدین پر بھروسہ نہ کریں جنہوں نے خود کو ٹی آر ایس کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے۔ انہوں نے کے ٹی راما راؤ پر خانگی اسکول انتظامیہ کو دھمکانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے سماج کے تمام طبقات بشمول طلبہ ، ملازمین ، بیروزگاروں ، ٹیچرس اور تمام طبقات کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ فیڈریشن آف میناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ حکومت نے اقلیتی تعلیمی اداروں کو کمزور کردیا ہے ۔ 50 فیصد اقلیتی ادارے بند ہوچکے ہیں۔ حکومت مسلم تحفظات پر عمل آوری میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کو اقلیتوں سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی حق حاصل نہیں۔ انتخابی مہم میں وی ہنمنت راؤ ، مہیش گوڑ اور دیگر مقامی قائدین نے حصہ لیا ۔