سری رام ساگر تلنگانہ کا تاریخی اور باعث فخر آبی پراجکٹ

   

بی آر ایس دور میں تعمیر کالیشورم اور دیگر پراجکٹ چند برسوں میں ہی نقصان سے دوچار ، اُتم کمار ریڈی اور دیگر کی پریس کانفرنس
نظام آباد۔ یکم اگسٹ ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ کے وزیر آبپاشی اُتم کمار ریڈی، وزیر آئی ٹی ڈی شری دھر بابو اور وزیر ویویک وینکٹ سوامی نے ضلع نظام آباد کے میندورہ منڈل میں واقع سری رام ساگر پروجیکٹ (ایس آر ایس پی) کا دورہ کرتے ہوئے موجودہ آبی ذخائر، سیلابی صورتحال، پانی کی آمد و اخراج اور آبی وسائل کے انتظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزراء نے محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ عہدیداروں سے پروجیکٹ میں پانی کی آمد، ذخیرہ، اخراج اور آئندہ زرعی سیزن کیلئے پانی کی دستیابی سے متعلق تفصیلات حاصل کیں اور مختلف اُمور پر جائزہ اجلاس بھی منعقد کیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر آبپاشی اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت دریائے گوداوری پر قائم تمام اہم آبی منصوبوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سری رام ساگر، کڈم اور یلّم پلی پروجیکٹوں میں موجودہ آبی ذخائر کا جائزہ لینے کے بعد کسانوں کیلئے آبپاشی کے پانی کے اجراء سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو دن کے اندر پانی چھوڑنے کے بارے میں حکومت باضابطہ اعلان کرے گی۔اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ سری رام ساگر پروجیکٹ تلنگانہ کا ایک تاریخی اور باعثِ فخر منصوبہ ہے، جو 1970 سے مسلسل عوام اور کسانوں کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 112 ٹی ایم سی ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھنے والے اس ریزروائر میں برسوں کے دوران ریتی کا ذخیرہ (سلٹ) جمع ہونے کے باعث اس کی گنجائش میں کمی واقع ہوئی ہے اور تقریباً 80 ٹی ایم سی رہ گئی ہے۔ حکومت اس کی اصل گنجائش بحال کرنے کیلئے مرکزی حکومت، نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی اور سینٹرل واٹر کمیشن سے مسلسل رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں جلد ہی اہم فیصلہ لیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی اور سینٹرل واٹر کمیشن کی تکنیکی نگرانی کمیٹی نے حالیہ اجلاس میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے آبی منصوبوں کی بحالی اور مضبوطی کیلئے کیے جا رہے اقدامات کی تائید کی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ماہرین کی سفارشات کے مطابق پروجیکٹوں کی مرمت اور بحالی کے کام انجام دے رہی ہے۔وزیر نے بی آر ایس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈی گڈہ، انارم اور سندیلا بیراجوں کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال ان بیراجوں یا ان کے پمپ ہاؤسز کے استعمال کے بغیر ہی بارشوں کی بدولت یلّم پلی ریزروائر میں تقریباً 20 ٹی ایم سی پانی ذخیرہ ہوا، اس کے باوجود حکومت کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت تینوں بیراجوں کی بحالی کیلئے پوری طرح پُرعزم ہے۔اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ یلّم پلی پروجیکٹ کانگریس حکومت کی تعمیر کردہ اسکیم ہے اور یہ پرانہیتا منصوبے کا حصہ ہے، تاہم بی آر ایس اسے اپنی کامیابی قرار دیکر عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کے تعمیر کردہ سری رام ساگر، ناگرجنا ساگر اور سری سیلم جیسے ڈیم کئی دہائیوں بعد بھی مضبوطی سے قائم ہیں، جبکہ بی آر ایس حکومت کے دور میں تعمیر ہونے والے کالیشورم سمیت بعض منصوبے چند ہی برسوں میں نقصان کا شکار ہو گئے۔انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس مرتبہ سری رام ساگر پروجیکٹ میں صرف تقریباً 22 ٹی ایم سی پانی موجود ہے، اس لیے دستیاب پانی کو زرعی ضروریات کے مطابق دانشمندانہ انداز میں استعمال کرنے کیلئے حکومت جلد جامع منصوبہ اور باضابطہ اعلان کرے گی۔ اس موقع پر ارکان اسمبلی سدرشن ریڈی اور ڈاکٹر بھوپتی ریڈی، نظام آباد کے انچارج کلکٹر بھاویش میشرا، ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر ناگیش ریڈی، تلنگانہ اردو اکیڈمی کے چیئرمین طاہر بن حمدان، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ عہدیداران اور کانگریس کے متعدد قائدین بھی موجود تھے۔