سلامتی کونسل میں براعظم افریقہ کو بھی نمائندگی دی جائے : اردغان

   

انقرہ : صدر رجب طیب اردغان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ڈھانچے کو یکسر تبدیل کیا جانا چاہیے۔ صدراردغان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی افریقہ پوسٹ کا جواب دیا۔اپنی پوسٹ میں ایردوان نے کہا، سیکرٹری جنرل آج کے حالات کے ساتھ منصفانہ اور ہم آہنگ طریقے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے بارے میں مخلصانہ اور بلند آواز سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا دنیا کے لیے ایک منصفانہ نظام کی بحالی کے لیے بہت اہم ہے۔صدر نے کہا کہ افریقی براعظم اور تمام افریقی عوام کو اس منصفانہ نظام میں حصہ ڈالنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ڈھانچہ عالمی امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے اپنے فرض کی ادائیگی سے بہت دور ہے، اس سے پہلے کہ دنیا میں ہمیں جنگ و جدل گھیر لے، ہمیں عالمی آبادی کو مزید تکلیف میں مبتلا اور بے گناہوں کا مزید خون بہائے بغیر اسے یکسر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم نے کرسک میں دو کلومیٹر پیشقدمی کرلی : زیلنسکی
کیف : یوکرین کے صدر ولادیمیر زلنسکی نے کہا ہے کہ ہم نے، آج دن کے آغاز سے تا حال، روس کے علاقے کرسک کے مختلف مقامات میں ایک سے دو کلو میٹر اندر تک پیش قدمی کی ہے۔زلنسکی نے سوشل میڈیا پیج سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ “میں نے، یوکرین مسلح افواج کے سربراہ اولیکسنڈر سرسکی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں ٹورٹسک اور پوکرووسک سمیت فرنٹ لائن کے اہم علاقوں کی صورتحال اور روسی علاقے کرسک میں آپریشن کے بارے میں، معلومات حاصل کی ہیں۔