نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا جس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ مبینہ دہلی شراب پالیسی گھوٹالہ میں ان کی گرفتاری اور ریمانڈ کو برقرار رکھا گیا تھا۔دہلی ہائی کورٹ نے 20 اکتوبر کو سنگھ کی درخواست کو مسترد کر دیا جس میں ای ڈی کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں ان کی گرفتاری اور ریمانڈ کو برقرار رکھا گیا تھا۔راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج ایم کے ناگپال نے 13 اکتوبر کو اس معاملے میں سنجے سنگھ کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ سنجے سنگھ نے ای ڈی کے سامنے اپنی گرفتاری اور ریمانڈ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی تحقیقاتی ایجنسی نے انہیں گرفتاری کی بنیاد نہیں بتائی ہے۔ای ڈی نے 10 اکتوبر کو جج ناگپال سے اس بنیاد پر ان کی مزید تحویل کی درخواست کی تھی کہ اس معاملہ سے متعلق ای ڈی کے کچھ خفیہ دستاویزات کے حصول کے حوالہ سے ان کا رویہ مکمل طور پر عدم تعاون والا تھا۔دوسری طرف، سینئر وکیل ربیکا جان، جنہوں نے سنگھ کی طرف سے دلیل دی دعوی کیا کہ ای ڈی کے پاس کیس میں ان کی حراست میں توسیع کی درخواست کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ مالی تحقیقاتی ایجنسی نے سنگھ کو 4 اکتوبر کو نارتھ ایونیو علاقے میں ان کی رہائش گاہ پر تلاشی لینے کے بعد گرفتار کیا تھا۔