سوشیل میڈیا سے سیاستدانوں کا فرار ، منفی ریلز اور ٹرولنگ کے ڈر سے ایپس ڈیلیٹ

   

بدزبانی ، باڈی شیمنگ اور افراد خاندان پر نشانہ سے پریشان ، تلنگانہ کی سیاست میں نیا رجحان
حیدرآباد ۔ 17 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ کے سیاسی حلقوں میں ایک نیا اور حیران کن رجحان دیکھنے میں آرہا ہے ۔جن سیاسی قائدین کی تمام تر سرگرمیاں کبھی سوشیل میڈیا کے گرد گھومتی تھیں اب وہی قائدین فیس بک ، ایکس ( ٹوئیٹر ) ، انسٹاگرام اور یو ٹیوب جیسے ایپس کو کھولنے سے بھی کترانے لگے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان کے خلاف بِڑی تعداد میں تیار کی جانے والی تیکھی ریلز ، شارٹس اور زہریلی ٹرولنگ ہے ۔ منفی مواد اور مسلسل ٹرولنگ دیکھ کر شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہونے کے باعث حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے کئی ارکان اسمبلی ، ارکان پارلیمنٹ ، ارکان قانون ساز کونسل کے علاوہ دوسرے سرکردہ قائدین اپنے فونس سے تمام سوشیل میڈیا ایپس کو ڈیلیٹ کر کے پر سکون رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہی قائدین اپنے مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کے لیے سوشیل میڈیا کا بھر پور استعمال کرتے تھے ۔ ایک مخالف پوسٹ کے جواب میں 10 سے زائد ریلیز ، پوسٹس اور شارٹس جاری کی جاتی تھیں ۔ جیسے ہی وہ عوامی منتخب نمائندے ایم ایل اے یا ایم پی بنے یا دیگر نامزد عہدوں پر فائز ہوگئے ۔ اب وہی ہتھیار ان کے خلاف استعمال ہورہے ہیں ۔ مخالفین کی جانب سے بنائی گئی ریلیز اور ممیز کو دیکھ کر اب ان کے اندر انہیں برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رہا ہے ۔ قائدین کا کہنا ہے کہ سوشیل میڈیا پر ان کے خلاف زہریلے حربے استعمال ہورہے ہیں ۔ جنہیں دیکھ کر شدید ذہنی صدمہ پہونچتا ہے ۔ مخالفین کی جانب سے استعمال کی جانے والی انتہائی گراوٹ زدہ زبان ، جسمانی ساخت ، لکس اور چہرے پر نازیبا الفاظ اور تحقیر آمیز میمز ، سیاست سے دور رہنے والے خاندانی افراد اور خواتین کو زبردستی ٹرولنگ کی زد میں لانا ، حکمران جماعت ہو یا اپوزیشن پارٹی دونوں ہی کے قائدین اس منفی رجحان کا شکار ہیں ۔ اس گندے اور تحقیر آمیز مواد سے خود کو اور اپنے ذہن کو محفوظ رکھنے کے لیے قائدین نے اپنے فونس سے تمام سوشیل میڈیا ایپس کو مکمل طور پر ڈیلیٹ کردیا ہے اور اپنے قیمتی اسمارٹ فونس کو صرف سادہ فون کالس وصول کرنے اور کسی کو فون کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں ۔۔ 2/m/b