تمام اقدامات قابل اعتماد اطلاعات اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر کئے گئے ، حکومت لداخ کا موقف
سرینگر ۔یکم اکتوبر ۔( یو این آئی ) مرکزی زیر انتظام علاقہ لداخ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سماجی کارکن سونم وانگچک کے خلاف کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی (وچ ہنٹنگ) کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ہے جنہیں قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے ) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے ۔انتظامیہ نے زور دے کر کہا کہ تمام اقدامات قابل اعتماد اطلاعات اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پرکئے گئے ہیں۔لداخ کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا جن میں سرکاری اداروں پر افراد کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔انتظامیہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی قسم کی وچ ہنٹنگ یا پردہ پوشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام اقدامات معتبر اطلاعات اور دستاویزات پر مبنی ہیں اور تحقیقات غیر جانبدارانہ طور پر ہو رہی ہیں۔بیان میں ہمالیائی انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹوز، لداخ (ایچ آئی اے ایل) کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور غیر ملکی کرنسی کے قوانین کی خلاف ورزیوں کی جاری تحقیقات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔حکام نے نشاندہی کی کہ ایچ آئی اے ایل ایک تسلیم شدہ یونیورسٹی نہیں ہے اس کے با وجود یہ ادارہ ڈگریاں جاری کر رہا ہے جس سے طلبا کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے مزید بر آں ادارے نے غیر ملکی فنڈنگ کی مکمل تفصیلات متعلقہ مالیاتی بیانات میں ظاہر نہیں کی ہیں۔ایس ای سی ایم او ایل کے ایف سی آر اے رجسٹریشن کی منسوخی کے بارے میں، انتظامیہ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ متعدد تصدیق شدہ خلاف ورزیوں پر مبنی تھا نہ کہ کسی ایک واقعہ کی بنیاد پر ایسا کیا گیا۔انتظامیہ نے وانگچک کی حالیہ سرگرمیوں اور بیانات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت کی جانب سے لداخ کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے لئے تاریخ طے کئے جانے کے باوجود بھی وانگچک نے اشعال انگیز بیانات دیئے ۔بیان میں کہا گیا کہ انہوں (وانگچک) نے عوام بالخصوص نوجوانوں کو بھڑکانے کی کوشش کرنے والے آنشان مقام سے متعدد مواقع پر نیپال، سری لنکا اور بنگلہ دیش کا حوالہ دیا اور 11 ستمبر 2025 کو این ڈی ایس پارک میں لداخ ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ نوجوان کہہ رہے ہیں کہ وہ امن یا مہاتما گاندھی کے راستے کو ضرروی نہیں سمجھتے ہیں، لوگ سیکورٹی فورسز سے نہیں ڈرتے ہیں اور اگر لوگ باہر نکلے تو اور حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔حراست کی بنیادوں پر انتظامیہ نے تصدیق کی کہ وانگچک کو تمام نوٹسز با قاعدہ طور پر فراہم کئے گئے تھے ۔