سوڈان تنازعات : ایک لاکھ سوڈانی واپس جنوبی سوڈان جانے پر مجبور

   

خرطوم : سوڈان میں تنازعات کی وجہ سے تقریباً 100 ہزار جنوبی سوڈانی باشندے اپنے ملک جانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے ڈپٹی ہائی کمشنر برائے آپریشنز رؤف مازو نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر سوڈان میں 15 اپریل سے فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (HDK) کے درمیان جاری تنازعات کے بارے میں کہا ہے کہ 2 ماہ قبل سوڈان میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، تقریباً 100,000 جنوبی سوڈانی باشندوں کو اپنے ملکوں کو واپس جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رینک اور ملاکال میں نقل مکانی کرنے والے خاندانوں سے ملاقات کی اور وہ وہ وہاں واپس جانا چاہتے ہیں جہاں سے وہ آئے تھے تاکہ وہ اپنے مستقبل کی تعمیر نو کر سکیں۔سوڈان کی فوج نے ہمیشہ ریپڈ فورسز HDKکی حمایت اور پشت پناہی کی لیکن اب اسے اپنے لیے خطرہ سمجھا کیونکہ اس نے ایک آزاد اور متوازی فوج کے طور پر کام کرنا شروع کردیا جس پر اسے دو سال کے اندر اندر 2 سال کے اندر فوج میں مکمل طور پر ضم کر نے کا اعلان کیا گیا جس پر15 اپریل کی صبح دارالحکومت خرطوم اور مختلف شہروں میں فریقین کے درمیان مسلح تصادم ہوا۔