سویڈن میں ایک بارپھر قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعات

,

   

لندن : سویڈن کے شہر کارلسکرونا کے علاقے رونیبی کے مختلف حصوں سے قرآن کریم کے تین ایسے نسخے ملے ہیں جن پر توہین آمیز تحریریں موجود ہیں۔سویڈن کے سرکاری ٹیلی ویژنSVT کی خبر کے مطابق قرآن کریم کے نسخے جس پر جان سے مارنے کی دھمکیاں لکھی ہوئی تھیں، بس اسٹاپ پر اور باقی عوامی مقامات پر پائے گئے ہیں۔رونیبی اسلامک ایسوسی ایشن کے رکن، گڈلاگ ہلمارسڈوٹیر نے SVT کو ایک بیان دیتے ہوئے قرآن کریم کے ان کے لیے رہنما ہونے اور اس واقعہ پر انتہائی دکھ پہنچا ہے۔رونیبی میں، 2020 میں مسلمانوں کی طرف سے مسجد کے طور پر استعمال ہونے والی عمارت کے سامنے جلے ہوئے قرآنی صفحات کو چھوڑ دیا گیا تھا۔پولیس کے واقعہ کی “نفرت پر مبنی جرم” کی تحقیقات شروع کیے جانے کے اعلان کے باوجود آج تک مجرموں کو نہیں پکڑا جاسکا ہے۔ڈنمارک کی انتہائی دائیں بازو کی پارٹی کے رہنما راسموس پالوڈن نے 21 جنوری کو سویڈن کے دارالحکومت ا سٹاک ہوم میں ترک ایمبیسی کے سامنے قرآن پاک کے نسخہ کو نذر آتش کیا اور اس کارروائی کے دوران کسی کو پالوڈان کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔سویڈن کی حکومت کی طرف سے پالوڈان میں قرآن جلانے کی اجازت پر کئی اسلامی ممالک بالخصوص ترکیہ نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔پالوڈان نے 27 جنوری کو ڈنمارک میں کوپن ہیگن میں مسجد کے سامنے اور ترکیہ کے سفارت خانے کے سامنے قرآن پاک کو نذر آتش کیا۔ہالینڈ میں اسلامائزیشن آف دی ویسٹ (PEGIDA) تحریک کے خلاف پیٹریاٹک یورپین کے رہنما ایڈون ویگنز ویلڈ نے دی ہیگ میں قرآن کریم کے نسخہ کو پھاڑ دیا۔سویڈن، ہالینڈ اور ڈنمارک میں قرآن پاک پر حملوں کے خلاف ترکیہ اور کئی ممالک میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔