سڑک حادثے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد ہلاک

   

مالک مکان نے گھر کو مقفل کردیا ، نعشوں کو کرایہ کے مکان میں لانے کی اجازت نہیں دی ، سنگدلی کی انتہا
جدید دور کا سیاہ چہرہ

بھدراچلم ۔ 23 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ہمارے معاشرے میں توہم پرستی اور بے حسی کس حد تک انسان کو اندھا کرچکی ہے، اس ایک دل دہلا دینے والے واقعہ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بھدراچلم کی وینکٹیشورا کالونی میں دیکھنے کو ملی۔ یک سڑک حادثہ میں ماں باپ اور 2 سالہ معصوم بچے کی ہلاکت کے بعد جب ان کی نعشیں کرائے کے گھر لائی گئی تو مالک مان نے انسانیت کو شرمسار کرتے ہوئے گھر کو مقفل ردیا اور نعشوں کو گھر میں لانے کی اجازت دینے سے صاف انکار کردیا۔ وینکٹیشورا کالونی کے رہائشی 25 سالہ سائی پرکاش اپنی 22 سالہ بیوی سندھیا اور دو سالہ مکشت اور ماں جیوتی کے ساتھ اتوار کو ملکالاپلی گاؤں سے واپس بھدرا چلم لوٹ رہے تھے۔ مادھرم کے جنگلاتی علاقے میں ان کی تیز رفتار کار اچانک بے قابو ہوکر ایک بڑے درخت سے ٹکرائی حادثہ اتنا ہولناک تھا کہ سائی پرکاش ان کی شریک حیات اور دو سالہ کمسن موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ماں جیوتی شدید زخمی حالت میں ہاسپٹل میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ پیر کو پوسٹ مارٹم کے بعد رشتہ دار تینوں نعشوں کو ایمبولینس کے ذریعہ کرایے کے مکان پر لے کر پہونچے وہاں بڑا سا تالا لٹک رہا تھا۔ مالک مکان کو فون کیا گیا تو اس نے نعشوں کو گھر کے اندر لانے کی اجازت نہیں دی۔ دراصل سائی پرکاش کے ولا جو محکمہ برقی کے لائن انسپکٹر تھے۔ ان کا بھی چھ ماہ قبل انتقال ہوا تھا جس پر مالکان مکان نے توہم پرستی کا شکار ہوگیا اور چھ ماہ میں چار افراد کی موت کو اپنے گھر کیلئے منحوس قرار دیا اور ساتھ ہی اس کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اب مکان کا کرایہ دینے والا کوئی نہیں بچا ہے۔ جس کی وجہ سے اس نے نعشوں کو گھر میں لانے کی اجازت نہیں دی۔ مکان مالک کی اس سنگدلی اور غیرانسانی سلوک پر رشتہ داروں اور کالونی کے لوگوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ بالآخر نعشوں کو اسی ایمبولینس میں آخری رسومات کیلئے پروشوتم پٹنم پہونچایا۔ مالک مکان کی اس سنگدلی اور توہم پرستی نے ثابت کردیا کہ معاشرے میں تعلیم تو آگئی لیکن انسانیت اب بھی پیچھے ہے۔2