’سی اے اے وصولی نوٹس واپس لے ورنہ ہم منسوخ کر دیں گے‘: سپریم کورٹ

,

   

کارروائی قانون کیخلاف ، یوگی حکومت کی عدالت عظمیٰ کی جانب سے شدید سرزنش
نئی دہلی :سپریم کورٹ نے کل شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں پر سرکاری املاک کو مبینہ نقصان پہنچانے کی ریکوری سے متعلق وصولی نوٹس واپس لینے کیلئے اترپردیش حکومت کو آخری موقع دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگرایسا نہیں کیاگیا تو وہ انہیں قانونی طورسے منسوخ کردے گی۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور سوریہ کانت کی بنچ نے نوٹس واپس لینے کی کارروائی نہ کرنے پر ریاستی حکومت کی سخت سرزنش کی اور کہا کہ اگر نوٹس واپس نہیں لیے گئے تو انہیں منسوخ کردیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ دسمبر 2019 میں شروع کی گئی کارروائی سپریم کورٹ کے ذریعہ وضع کردہ قانون کے خلاف تھی۔بینچ نے کہاکہ نوٹس واپس لے لیں یا ہم اس عدالت کے ذریعہ وضع کردہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر اسے منسوخ کر دیں گے۔ ریاستی حکومت کو قانون کے تحت مناسب عمل کی پیروی کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے، عدالت نے کہا کہ براہ کرم اس کی تحقیقات کریں اور اس کیلئے 18 فروری تک کا ایک موقع دیا گیا ہے۔ یوپی حکومت نے دسمبر 2019 میں سی اے اے کیخلاف احتجاج کرنے والوں کو عوامی املاک کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے کے الزام میں وصولی کیلئے نوٹس جاری کیا تھا جس کے ذریعہ احتجاج کرنے والوں کی املاک کو قرق کرنے کی بات کی گئی تھی ۔بنچ نے ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل سے کہا کہ اس نے (حکومت) ملزم کی جائیدادوں کو قرق کرتے ہوئے ایک “شکایت کنندہ، جج اور پراسیکیوٹر” کی طرح کام کیا۔حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل گریما پرساد نے سماعت کے دوران کہا کہ آٹھ سو سے زیادہ فسادیوں کے خلاف 100 سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان کے خلاف 274 ریکوری نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 236 میں ریکوری آرڈرز پاس کیے گئے، جب کہ 38 معاملات کو بند کردیا گیا۔