ہر پارٹی رائے دہندوں کو راغب کرنے اور کامیابی کو یقینی بنانے کی حکمت عملی میں مصروف
حیدرآباد۔/23 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) دونوں شہروں میں حوالہ کی رقومات کی ضبطی کا سلسلہ جاری ہے اور کہا جارہا ہے کہ جو رقم ضبط کی جارہی ہے وہ حلقہ اسمبلی منوگوڑ کے ضمنی انتخابات میں استعمال کیلئے منتقل کی جارہی تھی۔ مسلسل بھاری رقومات کی ضبطی سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست میں ایک حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کو کس قدر اہمیت حاصل ہونے لگی ہے۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی منوگوڑ ضمنی انتخابات کو کافی اہمیت دیتے ہوئے اس نشست سے کامیابی کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی قیادت انتخابی حکمت عملی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بی جے پی امیدوار کی کامیابی کیلئے کی جانے والی کوششوں کے طور پر بی جے پی نے نہ صرف زمینی سطح پر موجود کارکنوں و قائدین پر انحصار کیا ہے بلکہ سوشیل میڈیا کے علاوہ فون کے ذریعہ رابطہ کرتے ہوئے رائے دہندوں کو بی جے پی امیدوار کو کامیاب بنانے کی اپیل کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ ریاستی بی جے پی کے قائدین میں عدم تال میل کے متعلق اطلاعات پر قومی قائدین نے ناراضگی جتاتے ہوئے علحدہ ٹیم تشکیل دی ہے جو کہ منوگوڑ حلقہ اسمبلی میں بی جے پی امیدوار کی انتخابی مہم کی نگرانی کرے گی۔ آر ایس ایس اور دیگر محاذی تنظیموں کے علاوہ بی جے پی کی طلباء تنظیم اے بی وی پی اور بھارتیہ مزدور سنگھ کی جانب سے بھی اس حلقہ اسمبلی میں بی جے پی کے حق میں مہم چلائی جانے لگی ہے۔ کانگریس قائدین منوگوڑ کے رائے دہندوں کو بی جے پی اور ٹی آر ایس کی انتخابی دھاندلیوں سے متنبہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ یہ حلقہ اسمبلی کانگریس کا گڑھ رہا ہے اور ضمنی انتخابات میں بھی کانگریس امیدوار کو زبردست کامیابی حاصل ہوگی لیکن تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا کہنا ہے کہ کانگریس رکن اسمبلی کے مستعفی ہوتے ہوئے بی جے پی میں شمولیت کے سبب ضمنی انتخابات کی صورتحال پیدا ہوئی ہے اسی لئے ٹی آر ایس ہی علاقہ کی مستحکم و منظم انداز میں ترقی کو یقینی بناسکتی ہے۔ م