مسلمانوں کا کانگریس کی طرف جھکاؤ، بی جے پی کا مقابلہ کانگریس سے ممکن، مسلمانوں کا تاثر
حیدرآباد ۔ 15 جون (سیاست نیوز) علی بابا اور 40 چور کی کہانی تو سبھی جانتے ہیں اب پرشانت کشور کی رپورٹ کے بعد وہ سیاسی 40 اراکین کون ہیں اس تعلق سے اراکین اسمبلی ایک دوسرے سے دریافت کررہے ہیں کہ رپورٹ میں آپ کا نام ہے یا میرا نام ہے! تفصیلات کے مطابق انتخابی حکمت عملی ساز پرشانت کشور کی چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو پیش کردہ خفیہ سروے رپورٹ سے حکمران ٹی آر ایس جماعت میں سیاسی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ جن 40 ارکان اسمبلی کی کارکردگی کو پرشانت کشور کی ٹیم نے مایوس کن قرار دیا ہے ان میں 5 وزراء بھی شامل ہونے کے اشارے مل رہے ہیں جس سے ٹی آر ایس کے 103 ارکان اسمبلی میں چہ میگوئیاں شروع ہوچکی ہیں۔ حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی شادی بیاہ اور دیگر تقاریب میں ایک دوسرے سے ملاقات کررہے ہیں تو پرشانت کشور کی رپورٹ پر ہی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔ پرشانت کشور نے اپنی رپورٹ میں چیف منسٹر کو چند تجاویز پیش کیں اور مشورے دیئے ہیں، جس میں مسلم رائے دہندوں کے جھکاؤ کو کانگریس کی طرف دکھایا گیا ہے اور مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پرشانت کشور کی رپورٹ نے ٹی آر ایس میں انتخابات سے قبل انتخابی جیسا ماحول پیدا کردیا ہے۔ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی پرگتی بھون میں رہنے والے پارٹی کے قائدین یا چیف منسٹر کے قریبی مانے جانے والے قائدین سے مسلسل رابطہ بناتے ہوئے رپورٹ میں اپنا نام شامل ہے یا نہیں اس کی جانکاری حاصل کرنے کیلئے دوڑدھوپ کررہے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ پرشانت کشور کی ٹیم گذشتہ سال ڈسمبر سے تلنگانہ میں سرگرم ہے۔ ریاست کے تمام اسمبلی حلقوں میں عوامی نبض ٹٹول رہی ہے۔ حکومت کی فلاحی اسکیمات پر عوامی رائے حاصل کی جارہی ہے۔ اسکیمات سے استفادہ کرنے والے اور محروم رہنے والے عوام کے موقف کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ بالخصوص ارکان اسمبلی کی کارکردگی، ان کی خدمات سے عوام کتنے مطمئن ہیں اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ارکان اسمبلی اور ان کے ارکان خاندان کی کسی بھی معاملے میں مداخلت اور اس پر عوامی ناراضگی کو بھی نوٹ کیا جارہا ہے۔ بیشتر لوگوں نے آئی پیاک ٹیم کو بتایا کہ انہیں حکومت کی کارکردگی پر اتنا اعتراض نہیں ہے جتنی ارکان اسمبلی کی کارکردگی سے شکایت ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ جن 40 ارکان اسمبلی کی کارکردگی کا رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے ان میں بیشتر ارکان اسمبلی پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں اس کے علاوہ کانگریس اور تلگودیشم سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس کے مقامی قائدین نے ابھی تک قبول نہیں کیا۔ شکست سے دوچار ٹی آر ایس کے امیدوار یا سابق ارکان اسمبلی موجودہ ارکان اسمبلی سے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کررہے ہیں۔ گروپ بنا کر ہر کوئی اپنا اپنا کام کررہا ہے۔ حکمران جماعت کے جن ارکان اسمبلی میں ناراضگی پائی جاتی ہے، ان میں 5 وزراء کے علاوہ دو یا اس سے زیادہ مرتبہ کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی بھی موجود ہیں۔ پرشانت کشور نے چیف منسٹر کو جو تجاویز پیش کئے ہیں، اس میں ملک کے موجودہ سیاسی حالات، مذہبی سیاست، نفرت کے ماحول کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہیکہ زعفرانی پارٹی کے اس گھناؤنے کھیل سے مسلمان بدظن ہوگئے ہیں۔ دوسری ریاستوں میں سیکولر علاقائی جماعتوں نے بی جے پی سے راست و بالواسطہ سمجھوتہ کیا ہے جس سے مسلمان پھر ایک مرتبہ کانگریس کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ریاست میں ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے ووٹ بکھر گئے ہیں مگر اس معاملے میں مسلمان کی رائے متحد ہے اور ان کا جھکاؤ کانگریس کی جانب ہے۔ ریاست میں ایک طرف کانگریس اور دوسری طرف بی جے پی اپنی سرگرمیاں تیز کرچکی ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مسلمان پوری طرح مطمئن نہیں ہے۔ اقلیتی بجٹ اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی نئی اسکیمات متعارف نہیں کرائی گئی۔ ٹی آر ایس حکومت اور پارٹی کی تنظیمی سطح پر مسلمانوں کی برائے نام نمائندگی ہے۔ خود ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین بھی مطمئن نہیں ہیں۔ طویل عرصہ سے پارٹی میں رہنے اور پارٹی سے وفاداری نبھانے کے باوجود انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے اور دوسری پارٹیوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والوں کو فوری عہدے دیئے جارہے ہیں۔ن