معلومات کے حصول کی کوشش۔ ای ڈی بھی شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ۔ صورتحال کو معمول پر رکھنے حکمت عملی پر غور
حیدرآباد یکم اگسٹ(سیاست نیوز) انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کاروائیوں کے دوران شہر میں ایسی کمپنیاں جنہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہے اور جن کمپنیوں میں سیاسی قائدین کی سرمایہ کاری ہے ان کے ذمہ داروں میں بے چینی کی لہر پائی جا رہی ہے اورکہا جا رہاہے کہ کمپنیوں کے ذمہ دار اپنے سرمایہ کاروں سے ای ڈی کی سرگرمیوں کے متعلق آگہی حاصل کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ای ڈی عہدیدار جو شہر میں رئیل اسٹیٹ تجارت اور دیگر سرگرمیوں کے متعلق آگہی حاصل کر رہے ہیں وہ ممکنہ حد تک مواد حاصل کرنے کے ساتھ شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ای ڈی کو موصولہ شواہد میں سیاسی قائدین کے سرمایہ اور انہیں منافع دینے والے تجارتی اداروں کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔ دونوں شہروں میں جاریہ ہفتہ یا آئندہ ہفتہ کے دوران ای ڈی کے علاوہ انکم ٹیکس کی کاروائیوں کا آغاز ہوسکتا ہے ۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کاروائی کے خدشات کے تحت برسراقتدار جماعت کے قائدین بالخصوص چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر ای ڈی کی کاروائی ہوتی ہے تو حالات کشیدگی اختیار کرسکتے ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے راست سرکردہ قائدین پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے معمولی کارکنوں کے بیانات میں سرکردہ سیاستدانوں کے ناموں کو شامل کرکے ان کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے مرکزی خفیہ اداروں کو یہ باور کروایا جا رہاہے کہ اگر برسراقتدار جماعت کے قائدین کے خلاف کاروائی یا ان پر دھاوے کئے جاتے ہیں تو تلنگانہ جذبات ابھر جائیں گے اور تلنگانہ عوام خاموش تماشائی نہیں رہیں گے لیکن ای ڈی کی جانب سے مہاراشٹرا میں شیوسینا ایم پی سنجے راوت کے خلاف کاروائی اور گرفتاری کے بعد حالات کو معمول کے مطابق رکھنے کی حکمت عملی کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے کہ سنجے راوت جو کہ سرکردہ مراٹھا قائد ہیں ان کی گرفتاری کے باوجود بدامنی پیدا نہیں ہوئی تو تلنگانہ میں بھی اسی حکمت عملی پر عمل کرکے سرکردہ قائدین کے خلاف کاروائی کی جائیگی۔ ذرائع کے مطابق چکوٹی معاملہ میں تحقیقات کے ساتھ دیگر شکایات کا بھی ای ڈی عہدیداروں نے جائزہ لینا شروع کردیا اور ای ڈی کے علاوہ انکم ٹیکس کی خصوصی ٹیمیں حیدرآباد میں موجود ہیں ۔علاوہ ازیں مرکزی خفیہ ایجنسیوں کے عہدیداروں کی جانب سے بھی تلنگانہ میں زمینی حقائق کا جائزہ لیا جا رہاہے تاکہ کاروائی کی صورت میں کسی بھی طرح کی کشیدگی پر فوری قابو پانے اقدامات کئے جاسکیں۔م