ریاستی حکومت کی رپورٹ نامکمل، مرکزی ٹیم کے دوسری مرتبہ دورہ کا امکان
حیدرآباد ۔ یکم اگسٹ (سیاست نیوز) ریاست میں سیلاب کے نقصانات کے بارے میں تلنگانہ حکومت کی جانب سے مرکز کو پیش کردہ ابتدائی رپورٹ پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت نے حقیقی صورتحال اور نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے دوسری ٹیم روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ موسلا دھار بارش اور سیلاب کے نتیجہ میں کئی اضلاع میں فصلوں کو بھاری نقصان ہوا۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ ایک ہفتے تک نئی دہلی میں قیام کے باوجود مرکز سے امدادی فنڈس حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ مرکزی ٹیم کے دورہ کے موقع پر گزشتہ ہفتہ حکومت کی جانب سے ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی جس میں مجموعی طور پر 1400 کروڑ کے نقصانات کا تخمینہ کیا گیا اور فوری طور پر ایک ہزار کروڑ کی اجرائی کی درخواست کی گئی تھی۔ مرکزی ٹیم کی واپسی کے باوجود تلنگانہ کے لئے سیلاب کی امدادی رقم جاری نہیں ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی ٹیم نے ابتدائی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ریاست کے دوسری مرتبہ دورہ کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے مرکز کو نقصانات کے بارے میں قطعی رپورٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔ اُمید کی جارہی ہے کہ مرکزی ٹیم عنقریب دوبارہ تلنگانہ کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی۔ حکومت نے مختلف محکمہ جات سے نقصانات کے بارے میں تفصیلات حاصل کرتے ہوئے 1400 کروڑ کا تخمینہ کیا تھا۔ زیادہ تر فصلوں اور مکانات کو نقصانات کی نشاندہی کی گئی۔ محکمہ زراعت نے 11 لاکھ ایکر اراضی پر فصلوں کو نقصانات کی نشاندہی کی ہے جبکہ محکمہ جات عمارات و شوارع اور پنچایت راج نے علی الترتیب 498 اور 449 کروڑ کے نقصانات کا تخمینہ کیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کو 33 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ اِسی دوران حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تلنگانہ کے ساتھ مرکز کا جانبدارانہ رویہ برقرار ہے اور مرکزی ٹیم کے نام پر فنڈس کی اجرائی میں ٹال مٹول سے کام لیا جارہا ہے۔ مرکز نے گجرات اور دیگر ریاستوں میں سیلاب کے امدادی کاموں کے لئے فنڈس جاری کئے ہیں۔ مرکز کے سرد مہری رویہ سے عہدیداروں کو اندیشہ ہے کہ مرکزی ٹیم تلنگانہ کے لئے برائے نام امدادی فنڈس کی سفارش کرے گی۔ ر