شادی مبارک اسکیم کا بجٹ بڑھ کر 450 کروڑ ہوگیا

   

150 کروڑ کا اضافہ، عوامی شکایتوں کا ازالہ ضروری
حیدرآباد۔7۔ فروری (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے سالانہ بجٹ 2023-24 میں شادی مبارک اسکیم کی رقم میں گزشتہ سال کے بہ نسبت 150 کروڑ روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے 450 کروڑ روپئے مختص کیا ہے جو ایک قابل ستائش اقدام ہے لیکن فنڈس کی اجرائی میں تاخیر ہونے کی عام شکایت پائی جاتی ہے ۔ شادی شدہ جوڑے کو بچہ کی پیدائش کے بعد معاوضہ ملنے کی بڑی تعداد میں شکایتیں وصول ہورہی ہیں، اس کا ازالہ ضروری ہے۔ غریب والدین شادی مبارک اسکیم سے استفادہ اٹھانے کیلئے بڑے پیمانہ پر درخواستیں داخل کر رہے ہیں ۔ یہ وقت رقمی اجرائی نہ ہونے سے مایوس ہورہے ہیں ۔ اس اسکیم کی امید میں لڑ کی کی شادی کرنے کیلئے جو قرض حاصل کیا جارہا ہے ، اس پر سود کا بوجھ ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہاہے ۔ حکومت کو محکمہ اقلیتی بہبود یا متعلقہ حکام کو غریب عوام کی ان پریشانیوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ شہر حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں ہزاروں درخواستیں زیر التواء ہیں، ان کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے خصوصی میکانزم تار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غریب والدین کے جو مسائل ہیں، ان کی فوری یکسوئی ہوسکے ۔ اسمبلی میں کل ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے بجٹ پیش کیا ہے جس میں انہوں نے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کیلئے 3210 کروڑ روپئے مختص کیا ہے ۔ گزشتہ سال بجٹ کے بہ نسبت 460 کروڑ روپئے اضافہ ہے ۔ گزشتہ سال 2022-23 ء میں ان دونوں اسکیمات کیلئے 2750 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے ۔ جاریہ ان اسکیمات کے بجٹ میں 460 کروڑ روپئے کا اضافہ سے 3.20 لاکھ افراد کو اس سے فائدہ ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔ن