کینبرا: مقامی سینیٹر لیڈیا تھورپ نے پیر کو آسٹریلیائی پارلیمنٹ کے دورے کے دوران شاہ چارلس سوئم کے خلاف نوآبادیات مخالف نعرے لگائے جس پر وہاں جمع قانون ساز اور دیگر معززین حیران و پریشان ہو گئے۔ ہمیں ہماری زمین واپس دو! جو تم نے ہم سے چھینا ہے وہ ہمیں واپس دو!” 75 سالہ بادشاہ کی تقریر کے بعد تھورپ نے تقریباً ایک منٹ تک بآوازِ بلند تلخ تنقید کی۔آزاد قانون ساز نے کہا، “یہ آپ کی سرزمین نہیں ہے، آپ میرے بادشاہ نہیں ہیں۔ انہوں نے یورپی آباد کاروں کے ہاتھوں مقامی آسٹریلیائی باشندوں کی “نسل کشی” کے مذمت کی۔آسٹریلیا 100 سال سے زائد عرصے تک ایک برطانوی آبادی رہا جس کے دوران ہزاروں کی تعداد میں اصل مقامی آسٹریلیائی قتل ہو گئے اور پوری کی پوری برادریاں بے گھر ہو گئیں۔ملک نے 1901 میں عملاً آزادی حاصل کی لیکن کبھی بھی مکمل جمہوری ملک نہیں بن سکا۔ شاہ چارلس موجودہ سربراہِ مملکت ہیں۔چارلس آسٹریلیا اور ساموا کے نو روزہ دودے پر ہیں۔ اس سال کے شروع میں ان میں کینسر کی تشخیص کے بعد یہ ان کا پہلا بڑا غیر ملکی دورہ ہے۔لیڈیا تھورپ توجہ حاصل کرنے والے سیاسی حربوں اور بادشاہت کی شدید مخالفت کے لیے معروف ہیں۔2022 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے تھورپ نے بادلِ نخواستہ اپنی دائیں مٹھی اٹھائی جب انہوں نے ملکہ الزبتھ دوم کی خدمت کرنے کی قسم کھائی تھی جو اس وقت آسٹریلیا کی سربراہ مملکت تھیں۔انہوں نے کہا،”میں خودمختار لیڈیا تھورپ سنجیدگی اور خلوص سے قسم کھاتی ہوں کہ میں وفادار رہوں گی اور میں نوآبادیات کی عزت مآب ملکہ الزبتھ دوم کی حقیقی وفاداری کرتی ہوں۔” اس پر سینیٹ کے ایک اہلکار کے انہیں سرزنش کی۔چیمبر کے صدر سیو لائنز نے کہاکہ سینیٹر تھورپ، سینیٹر تھورپ، آپ حلف کی تحریری عبارت پڑھیں۔
“1999 میں یہ تنازعہ سامنے آیا کہ آیا ملکہ کا متبادل پارلیمنٹ کے اراکین منتخب کریں گے، عوام نہیں۔ اس کے لیے آسٹریلیائی باشندوں نے ملکہ کو ہٹانے کے خلاف معمولی فرق سے ووٹ دیا۔