شراب اسکام کے بعد اب ’ ہاسپٹل بیڈ اسکام ‘ ۔ ٹی آر ایس کی مشکلات میںاضافہ

   

کورونا کی دو لہروں کے دوران دواخانوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کے نام پر بھاری بے قاعدگیوں و عنوانیوں کا الزام

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔16۔اکٹوبر۔تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین ابھی شراب اسکام سے سنبھل نہیں پائے ہیں کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے کورونا وائرس کی پہلی و دوسری لہر کے دوران دواخانوں میں بستروں کے اضافہ میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی تحقیقات کاآغاز کردیا گیا ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں یہ معاملہ 500 کروڑ سے تجاوز کرسکتا ہے اور کورونا کی پہلی لہر کے دوران تلنگانہ کے سرکاری دواخانو ںمیں بستروں کی تعداد میں اضافہ میں شامل وزراء کی جانب سے بڑے پیمانے پر فرضی بے نامی کمپنیوں کے ذریعہ کروڑہا روپئے کا تغلب کیا گیا اور اس معاملہ کو ای ڈی کی جانب سے ’ہاسپٹل بیڈ اسکام ‘ کا نام دے کر تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔ کہا جار ہاہے کہ جن لوگوں کو استعمال کرکے یہ اسکام کیا گیا ان تک ای ڈی نے رسائی حاصل کر لی ہے اور آئندہ چند ماہ کے دوران اس میں شامل سرکردہ قائدین کے ناموں کے بھی منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق 2020 اور 2021 کے دوران تلنگانہ میں سرکاری دواخانوں میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کے سلسلہ میں کروڑہا روپئے کے بلوں کی منظوری عمل میں لائی گئی تھی لیکن ان میں بھاری ادائیگی فرضی کمپنیوں کو کی گئی ہے علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے دواخانوں میں انفراسٹرکچرکو بہتر بنانے اقدامات کے نام پر کاروائیوں میں بھی ایسی کمپنیوں سے آلات خریدے جانے کی اطلاعات ہیں جن کمپنیوں کا وجود ہی نہیں ہے۔ دہلی شراب اسکام میں برسراقتدار کئی سرکردہ قائدین کے ناموں کے منظر عام پر آنے کے بعد اب یہ کہا جا رہاہے کہ شراب اسکام کا مرکز دہلی تھا لیکن ’ ہاسپٹل بیڈ‘ اسکام کا مرکز تلنگانہ ہوگا کیونکہ ذرائع کے مطابق دواخانوں میں بستروں کی سربراہی میں دھاندلی میں حکومت میں شامل وزراء کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران وزیر صحت کی ذمہ داری اور قلمدان موجودہ بی جے پی رکن اسمبلی حضورآباد مسٹر ایٹالہ راجندر کے پاس تھا اور مرکزی حکومت کو ایٹالہ راجندر نے ہی ’پاسپٹل بیڈ اسکام ‘ کی تمام تفصیلات فراہم کیں جس کے نتیجہ میں ای ڈی نے تفصیلات جمع کرنی شروع کردی ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ میں بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کے معاملات کا بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں اور صبر آزما طریقہ سے شواہد اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ریاست میں ’ ہاسپٹل بیڈ‘ اسکام معاملہ میں تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور انہیں اب تک جو مواد دستیاب ہواہے اس کے مطابق کورونا مریضوں کو معیاری علاج کی سہولتوں کے اقدامات کے طور پر منظور رقومات کے ذریعہ دواخانوں میں بستروں کی خریداری اور آکسیجن سے مربوط بستروں کی خریدی میں دھاندلیوں کیلئے بے نامی فرضی کمپنیوں کا استعمال کیا گیا ہے اس کے باوجود وہ تمام تفصیلات جو ای ڈی کو حاصل ہوچکی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ تلنگانہ میں وزراء اس اسکام میں شامل ہونے کی اطلاعات کے بعد ای ڈی حکام نے بعض مقامات پر دھاوے کرکے ریکارڈبھی جمع کیا ہے۔ ہاسپٹل بیڈ اسکام میں شامل کمپنیوں کے ذمہ داروں اور ان کے حکومت سے تعلق کے سلسلہ میں عہدیدار جائزہ لے رہے ہیں اور مستحکم شواہد جمع ہونے کے بعد فوری کاروائی کی جائے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہناہے کہ اگر شراب اسکام اور ہاسپٹل بیڈ معاملہ میں بڑے پیمانے پر کاروائی شروع کی جاتی ہے اور گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں تو حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ افراد خاندان کے ساتھ وزراء کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ایک فرد واحد کیلئے آسان نہیں ہوگا ۔