شرجیل کی عرضی معرض التواء کیوں؟

   

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ سے فروری 2020 کے دہلی فسادات کیس میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر جلد فیصلہ کرنے کو کہا ہے۔ یہ تقریباً 2022 سے زیر التواء ہے۔ بار اور بنچ کی رپورٹ کے مطابق جسٹس بیلا ایم ترویدی اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ نے کہا کہ وہ اس درخواست پر غور کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت ضمانت کیلئے براہ راست سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا ہے۔تاہم بنچ نے دہلی ہائی کورٹ سے امام کی ضمانت کی عرضی پر جلد فیصلہ کرنے کو کہا ہے۔