شمالی کوریا، روس میں فوجی بھیج رہا ہے تو ہم بھی یوکرین کی مدد کریں گے

   

سیول : جنوبی کوریا کے صدر یون سک۔یول نے کہا ہے کہ شمالی کوریا، روس کی جانب سے یوکرین کیخلاف جنگ میں فوجی بھیج رہا ہے تو ہم بھی یوکرین کے لئے مختص امداد میں اضافہ پر غور کریں گے۔ہسپانوی نیوز ایجنسی EFE سے گفتگو میں ‘یون’ نے دعویٰ کیا ہے کہ پیونگ یانگ ماسکو کو اسلحے کی فراہمی بھی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ اگر روس اور شمالی کوریا اپنی خطرناک فوجی مہمات کو بند نہیں کرتے تو ہم بھی اپنے اتحادیوں اور ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر یوکرین کی مدد میں اضافے سمیت مناسب اور موثر اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔واضح رہے کہ جنوبی کوریا کی قومی انٹیلی جنس سروس نے کل دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا کے فوجی، یوکرینی افواج سے لڑنے کے لیے، روس کے شہر کرسک کے محاذ کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔یوکرین کے ایک عہدیدار نے بھی مذکورہ سے مشابہہ دعوے میں کہا تھا کہ 50 ہزار روسی اور شمالی کوریائی فوجی یوکرین کے خلاف لڑنے کے لیے کرسک میں تعینات کر دیئے گئے ہیں۔صدر یون نے بھی اکتوبر میں جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ جنوبی کوریا ، روس اور شمالی کوریا کے درمیان فوجی تعاون کی حد کے مطابق، یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے پر غور کر سکتا ہے۔