شہر ، جعلی سرٹیفیکٹس کی تیاری کے مرکز میں تبدیل

   

حیدرآباد :۔ پولیس عہدیداروں نے حال میں شہر میں جعلی یونیورسٹی سرٹیفیکٹس بنانے پر ریلوے کے ایک ملازم کے ساتھ دیگر چار افراد کو گرفتار کیا ۔ اس کے بعد کے ماہ میں فوج کے ایک ملازم کو تین سو سے زائد جعلی یونیورسٹی سرٹیفیکٹس رکھنے پر گرفتار کیا گیا ۔ یہ دو واقعات ہی نہیں ہیں بلکہ اس کی کئی ٹولیوں کے لوگ حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں جعلی ڈگری سرٹیفیکٹس کی تیاری میں سرگرم ہیں تاکہ طلبہ کو اس طرح کی جعلی ڈگریاں اور سرٹیفیکٹس فراہم کرتے ہوئے یہاں یونیورسٹیز میں ان کے داخلے اور بیرون ملک میں ملازمت کے حصول میں مدد کریں ۔ زیادہ تر بی ٹیک اور ایم بی اے کے جعلی یونیورسٹی سرٹیفیکٹس کی تیاری پر توجہ دی جاتی ہے جو جابس کے جلد حصول میں معاون ہیں ۔ ایک اوسط حساب سے ، عثمانیہ یونیورسٹی اور جے این ٹی یو ایچ ذرائع کے مطابق ہر سال اعلیٰ تعلیم کے کورسیس میں داخلے کے لیے کئے جانے والے سرٹیفیکٹ ویریفیکشن کے دوران تقریبا 300 جعلی سرٹیفیکٹس کا پتہ چلتا ہے ۔ کورونا وبا کے دوران پتہ چلے جعلی سرٹیفیکٹس کی تعداد تاہم بہت کم ، صرف 120 تھی ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’ اونچی تنخواہ کے جابس حاصل کرنے اور اچھی یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے بھی طلبہ جعلی سرٹیفیکٹس بنانے والے دھوکہ بازوں سے رجوع ہورہے ہیں ‘ ۔ بعض موقعوں پر سرکاری ملازمتوں کے تقررات کے سلسلہ میں بھی جعلی سرٹیفیکٹس کا پتہ چلا ہے ۔ ذرائع کے مطابق طلبہ ایک سنگل جعلی سرٹیفیکٹ کے لیے جو بالکل اصل جیسا دکھائی دیتا ہے ، 50 ہزار تا ایک لاکھ روپئے دے رہے ہیں ۔ اصلی اور جعلی سرٹیفیکٹ کے درمیان فرق کو ایک ماہر ہی پہچان سکتا ہے ۔ جعلی یونیورسٹی سرٹیفیکٹس سے متعلق امریکی قونصلیٹ کی جانب سے کی گئی شکایتوں کے بعد ریاستی حکومت نے بیرونی کمپنیوں کو ہدایت دی کہ نہ صرف مارکس میمو کی جانچ کی جائے بلکہ ڈگری سرٹیفیکٹس کی بھی تصدیق کروائی جائے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق ہر سال اس طرح جعلی سرٹیفیکٹس بنانے والی چار تا پانچ ٹولیاں بے نقاب ہوتی ہیں ۔ ذرائع نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں کا تدارک کرنے کے لیے سخت پولیس کارروائی کی ضرورت ہے ۔۔