سی اے اے کی مخالفت کرنے والی پہلی ریاست، ملک کو تقسیم کرنے کی سازش کا الزام، متنازعہ قانون مسلمانوں کے خلاف
حیدرآباد۔/12 مارچ، ( سیاست نیوز) مرکز کی نریندر مودی حکومت کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے نفاذ کے اعلان کے ساتھ ہی ٹاملناڈو پہلی ریاست ہے جس نے ریاست میں متنازعہ قانون پر عمل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے شہریت ترمیمی قانون کو عوام کو تقسیم کرنے والا لاحاصل قانون قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ان کی حکومت ٹاملناڈو میں متنازعہ قانون پر عمل نہیں کرے گی۔ مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایم کے اسٹالن نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات سے عین قبل مودی حکومت نے عجلت میں عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ شہریت ترمیمی قانون اور اس کے قواعد دستور ہند کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف ہیں۔ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون سے ملک اور عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ یہ عوام کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف یہ ہے کہ CAA ایک غیر ضروری قانون ہے اور اسے دہرایا نہیں جانا چاہیئے۔ ٹاملناڈو میں متنازعہ قانون پر عمل آوری کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔ ایم کے اسٹالن نے سرکاری طور پر بیان جاری کرتے ہوئے سی اے اے پر اپنا موقف واضح کیا۔ اسٹالن جو برسر اقتدار ڈی ایم کے سربراہ بھی ہیں کہا کہ مذکورہ متنازعہ قانون ملک کے سیکولرازم، کثرت میں وحدت اور اقلیتی طبقات کے ساتھ ساتھ سری لنکا کے ٹامل پناہ گزینوں کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ ایم کے اسٹالن نے مرکز کی جانب سے پارلیمنٹ میں سی اے اے کی منظوری کے بعد ہی مخالفت کی تھی۔ 2021 میں ٹاملناڈو اسمبلی میں سی اے اے کے خلاف قراداد منظور کی گئی اور یہ واضح کردیا گیا کہ ٹاملناڈو میں اس پر عمل آوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ قانون مخالف مسلم اور مخالف سری لنکن ٹاملس ہیں۔ انہوں نے 2019 میں پارلیمنٹ میں بل کی منظوری میں انا ڈی ایم کے کی مدد پر تنقید کی۔ اسٹالن نے کہا کہ ملک کے عوام بی جے پی حکومت کی جانب سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف انا ڈی ایم کے نے کہا کہ ان کی پارٹی اس قانون کے ذریعہ اقلیتوں کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔1