شیشہ و تیشہ

   

طالب خوندمیری
اِتنا ہُنر!!
یار سے اپنے یہ پوچھا میں نے ازراہِ مذاق!
تیری گھر والی سُنا ہے ماہر پکوان ہے!
ہنس کے وہ بولا بھلا اِتنا ہُنر اُس میں کہاں
جِس کو کہتے ہیں کِچن وہ بھی مرا میدان ہے
…………………………
عابی مکھنوی
خودی کا راز…!
خودی کے راز کو میں نے بروزِ عید پایا جی
کہ جب میں نے کلیجی کو کلیجے سے لگایا جی
جوحصہ گائے سے آیا اُسے تقسیم کر ڈالا
جو بکرا میرے گھر میں تھا اُسے میں نے چُھپایا جی
فریج میں برف کا خانہ نہ ہوتا گر تو کیا ہوتا
دعائیں اُس کو دیتا ہوں کہ جس نے یہ بنایا جی
میں دستر خوان پر بیٹھا تو اُٹھنا ہو گیا مُشکل
کہ ہر بوٹی کو نگلا تھا بہت کم کو چبایا جی
بطور ِلُقمہ بوٹی سے میں روٹی کھا گیا درجن
کہ بانٹا میں نے کم کم تھا زیادہ کو پکایا جی
مرے معدے کے میداں میں عجب سی خون ریزی ہے
کہیں تکے اُچھلتے ہیں کسی کونے میں پایا جی
خُدا کے فضل سے جاری ہے اب بھی گوشت کا سائیکل
کہ دو دن عید سے پہلے گذشتہ کا مُکایا جی
چلو عابیؔ کہو پھر سے قصائی کو خُدا حافظ
کہ پورے سال کا کوٹہ تمھارے پاس آیا جی
…………………………
کاش اس عید پر …!
کاش اس عید پر میں تیرا بکرا ہوتا
اور کسی نے نہ سہی تُو نے تو مجھے پکڑا ہوتا
تو حنا لگے ہاتھوں سے مجھے گھانس کھلاتی
تھوڑی تھوڑی نہیں ساری اکٹھے کھلاتی
تو مجھے ’میں‘ ’میں‘ کر کے بلاتی
اور شام کو ساتھ گلی میں گھماتی
میرے پاس گاڑی نہ سہی چھکڑا ہوتا
کاش اس عید پر میں تیرا بکرا ہوتا
تو میری صحبت پر ناز کرتی
بلا ججھک مجھے آشنائے راز کرتی
اگر میرا رقیب تجھے چھیڑا کرتا
سینگ مارتا فوراً اُسے ٹکر کرتا
رات کو باہر سردی میں اکڑا ہوتا
کاش اس عید پر میں تیرا بکرا ہوتا
پھر عید پر ذبح ہو جاتا میں
تیری خاطر کٹ مر جاتا میں
تیری محبت نے کچھ اس طرح جکڑا ہوتا
کاش اس عید پر میں تیرا بکرا ہوتا
…………………………
ظریف لکھنوی
جھینگر …!!
آج کل کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی وجہ سے جھینگر بھی چرچہ میں ہے …!!
علم میں جھینگر سے بڑھ کر کامراں کوئی نہیں
چاٹ جاتا ہے کتابیں امتحاں کوئی نہیں
ظلم ہے با وصف مہر اس کو کہیں نا مہرباں
آسماں سے بڑھ کے سچا مہرباں کوئی نہیں
لکھنؤ دلی انہیں شہروں پہ کیا موقوف ہے
ہر جگہ اہل زباں ہیں بے زباں کوئی نہیں
ہے مثل مشہور دست خود دہان خود ظریفؔ
ہوٹلوں میں مہمان و میزباں کوئی نہیں
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’خوف کاکروچ کا …!‘‘
٭ ان دنوں میڈیا میں ’’کاکروچ جنتا پارٹی(CJP) ‘‘ کے بڑے چرچے ہیں۔ بتایا گیا کہ مختصر سے عرصہ میں سوشیل میڈیا پر اس کے دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں پہنچ گئی۔ اس رات و رات مقبولیت پر دنیا بھی حیران ہے۔ دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی کی مقبولیت نے ملک کے سرکاری اداروں میں اور سیاسی حلقوں میں کہیں ہلچل مچا رکھی ہے تو کہیں خوف طاری کر رکھا ہواہے۔ سنا تھا کہ اکثر خواتین کاکروچ سے ڈرتی ہیں۔ لیکن اب پتہ چلاکہ کاکروچ سے صرف صنفِ نازک ہی نہیں بلکہ اقتدار میں بیٹھے اپنی طاقت کا ڈنکا پیٹنے والے بھی ڈرتے ہیں۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
بھیجہ نکال …!
٭ ایک گوشت کی دوکان پر مالک (قصاب) نے اپنے ملازم سے کہا : ’’ارے او شوکت جلدی جلدی ہاتھ چلا ، وہ نیلی شرٹ والا بچہ بہت دیر سے ٹھہرا ہوا ہے وہ لڑکے کابھیجہ نکال اور وہ برقعہ والی میم صاحبہ ٹھہری ہوئی ہیں ان کا قیمہ بنادے ۔ چاقو تیز ہے کہ نہیں …!‘‘
کنیز آمنہ عظمیٰ ، افتخار علی ۔ گلبرگہ شریف
…………………………