’’تلنگانہ درشنی‘‘ پروگرام کے معاہدہ پر دستخط، چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد۔27 ۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں موجود تہذیبی و ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لئے صنعتی ادارے حکومت کے ساتھ تعاون و اشتراک کرنے کے لئے آگے آئیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے موسیٰ ندی کے طاس میں موجود تہذیبی ورثہ کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ان تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کے تحفظ اور انہیں سیاحتی مراکز کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے ریاست میں ’تلنگانہ درشنی‘ پروگرام کے معاہدہ پر دستخط کے دوران کئے گئے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ حکومت تلنگانہ نے شہر حیدرآباد میں موجود تاریخی کنوؤں کو سیاحتی مقامات میں تبدیل کرنے کے منصوبہ کے سلسلہ میں CII کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کے دوران کانفڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے ذمہ داروں کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ تلنگانہ قانون ساز کونسل ‘جوبلی ہال‘ کے تحفظ اور اس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے سلسلہ میں تعاون کریں۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے منصوبہ کے مطابق جلد ہی تلنگانہ قانون ساز کونسل کو حکومت کی جانب سے اسمبلی کی قدیم عمارت میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے قانون ساز کونسل کی اسمبلی کی قدیم عمارت میں منتقلی کے بعد جوبلی ہال کی تاریخی اہمیت اور اس کی عظمت رفتہ کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے طاس سے مربوط تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں تلنگانہ ہائی کورٹ کی موجودہ عمارت اور دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ نے دواخانہ عثمانیہ کی نئی عمارت کی تعمیر گوشہ محل پولیس اسٹیڈیم میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دواخانہ عثمانیہ کی خوبصورت تاریخی عمارت کے تحفظ کے لئے اسے سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔حکومت کی جانب سے سیاحت کے فروغ کے لئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں ۔انہوں نے تاریخی اہمیت کے حامل عمارتوں کی ترقی اور ان کی عظمت رفتہ کی بحالی کے سلسلہ میں جاری اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر صنعتکاروں کی جانب سے ان عمارتوں کی ترقی اور بہتری کے لئے اعانت کی جاتی ہے تو حکومت تلنگانہ کی تہذیب و ثقافت کے تحفظ میں کامیاب ہوپائے گی۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے چارمینار پیدل راہرو پراجکٹ کا بھی تذکرہ کیا اورکہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس پراجکٹ کی بھی عاجلانہ تکمیل کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ ہائی کورٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کے لئے تیار کردہ منصوبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے 100 ایکڑ اراضی پر نئے ہائی کورٹ کی عمارت کی تعمیر کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے جبکہ ہائی کورٹ کی موجودہ عمارت کے تحفظ اور اسے بھی سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کی منصوبہ بندی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے مختلف صنعتی اداروں کی جانب سے دونوں شہرو ںمیں موجود تاریخی کنوؤں کو سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کی منصوبہ بندی کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ جامعہ عثمانیہ میں موجود ماہ لقا باؤلی کی ترقی کے لئے انفوسیز نے آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ سائی لائف کمپنی نے منی چیروو کی ترقی کے لئے رضامندی ظاہر کی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ بھارت بائیوٹیک سالارجنگ باؤلی اور اما پلی باؤلی کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اڈیکمیٹ میں موجود سیڑھیوں والی باؤلی کو دودلا ڈیری کمپنی نے ترقی دینے کے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فلک نما میں واقع سیڑھیوں والی باؤلی کو تلنگانہ آر ٹی سی کی جانب سے آہک پاشی کے ذریعہ سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیںعلاوہ ازیں آرٹی سی کی جانب سے کوٹھی ویمنس کالج میں موجود باؤلی کے احیاء اور اس کی ترقی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ شہر حیدرآباد میں موجود تہذیبی و ثقافتی ورثہ میں شامل تاریخی عمارتوں کی ترقی کے لئے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور حکومت نے پرانا پل ‘ سٹی کالج اور موسیٰ ندی کے دونوں جانب موجود تاریخی عمارتوں کو جو مخدوش ہوچکی ہیں ان کی مرمت کے ساتھ انہیں سیاحتی مراکز کے طور پر فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔چیف منسٹر نے حکومت کی جانب سے شروع کئے گئے ’تلنگانہ درشنی ‘ پروگرام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعہ حکومت تلنگانہ نے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کو تاریخی مقامات کی سیر اور انہیں ان کی تاریخی اہمیت سے واقف کروایا جائے گا۔ مسٹراے ریونت ریڈی کے ہمراہ اس پروگرام میں ریاستی وزیر سیاحت مسٹر جوپلی کرشنا راؤ‘ پرنسپل سیکریٹری محکمہ سیاحت وانی پرساد کے علاوہ سی آئی آئی صدرنشین تلنگانہ مسٹر سائی پرساد اور چیف منسٹر کے دفتر سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ عہدیداران اور دیگر موجود تھے ۔3