صنفی مساوات میں اب بھی 300 سال لگیں گے: انٹونیو گوٹیرس

   

نیویارک : اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے عالمی پیش رفت ’ہماری آنکھوں کے سامنے غائب ہوتی جارہی ہے‘ اور صنفی مساوات کے دور ہوتے ہدف کو حاصل کرنے میں مزید تین صدیاں لگیں گی۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کمیشن آف دی اسٹیٹس آف ویمن کی سربراہی میں ہونے والی 2 ہفتوں پر محیط گفتگو شنید کا آغاز کرتے ہوئے 8 مارچ کو عالمی یومِ نسواں سے قبل جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ رفتار پر صنفی مساوات مزید دور ہوتی جارہی ہے اور اقوام متحدہ کی خواتین اسے 300 سال کی دوری پر دیکھتی ہیں‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کا استحصال، خطرے سے دوچار ہیں اور ان کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں‘۔ سکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے یہ بات خواتین کو گھیرے بحرانوں مثلاً زچگی کی شرح اموات، لڑکیوں کو اسکول سے نکالنے، دیکھ بھال کرنے والوں کے کام سے انکار اور بچوں کو کم عمری کی شادی پر مجبور کرنے کے تناظر میں کہی۔انٹونیو گوٹیرس نے کہا کہ کئی دہائیوں میں حاصل کی گئی ترقی ہماری آنکھوں کے سامنے غائب ہو رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں سنگین حالات پر روشنی ڈالی، جہاں ’عورتوں اور لڑکیوں کو عوامی زندگی سے غائب کردیا گیا ہے۔‘انہوں نے دیگر ممالک کا نام خاص طور پر نہیں لیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ ’بہت سی جگہوں پر خواتین کے جنسی اور تولیدی حقوق واپس لیے جا رہے ہیں (اور) کچھ ممالک میں، اسکول جانے والی لڑکیوں کو اغوا اور حملوں کا سامنا کرنے کا خطرہ ہے۔