طالبان حکومت کی دہشت گردوں کو امریکی اسلحہ فراہمی کے شواہد منظر عام پر

   

کابل : یکم نومبر ( یو این آئی ) اافغان طالبان حکومت کی جانب سے فتن الہندوستان اور فتن الخوارج کو امریکی ساختہ اسلحہ فراہم کرنے کے شواہد سامنے آگئے۔بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ہلاک ہونے والے ہندوستانی پراکسی فتن الہندوستان کے دہشت گردوں سے امریکی ساختہ ہتھیار برآمد کیے ہیں، جس میں M16 اور M4 رائفلز، ایمنگ لیزر اور نائٹ ویڑن ڈیوائسز شامل ہیں۔طالبان لیڈر ملا ہبت اللہ کا فتن الہندوستان کو طالبان حکومت کی جانب سے اسلحہ فراہمی کے لیے لکھا گیا خط بھی دونوں کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔ اس حوالے سے خفیہ رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے بلوچستان میں تخریب کاری اوردہشت گردی کے لیے 78 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی ہے۔ہندوستانی ریٹائرڈ کرنل بھی فتن الہندوستان اور فتن الخوارج کے ذریعے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں افغان سرزمین سمیت ہندوستانی اور اسرائیلی کردارکا اعتراف کر چکا ہے۔امریکی جریدے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انٹیلیجنس رپورٹ میں پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغان گورنر ملا شیرین کی میزبانی میں بھارت افغان انٹیلیجنس حکام کے اجلاس کا انکشاف ہو چکا ہے۔ اجلاس میں دہشتگرد تنظیم فتن الہندوستان، القاعدہ اور خارجی گل بہادر گروپ کے نمائندے شامل تھے۔امریکی واچ ڈاگ سیگار کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں امریکہ کی جانب سے چھوڑا گیا 7.1 ارب ڈالرکا اسلحہ افغان حکومت کی سرپرستی میں دہشت گردتنظیمیں استعمال کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ سمیت عالمی جرائد بھی افغان طالبان رجیم کے فراہم کردہ امریکی ہتھیاروں کی دہشت گردوںگروہوں تک رسائی کے سنگین پہلو کو بے نقاب کر چکے ہیں۔