مجالس مقامی کے چناؤ میں
42 فیصد تحفظات کی مساعی
حیدرآباد۔/5فروری، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ طبقاتی سروے کے بارے میں اپوزیشن کے پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ سریدھر بابو نے کہا کہ اپوزیشن سیاسی مقصد براری کیلئے عوام میں غلط فہمی پیدا کررہی ہے جبکہ سروے کا کام مکمل شفافیت اور سائنٹفک انداز میں مکمل کیا گیا۔ سریدھر بابو نے طبقاتی سروے اور ایس سی زمرہ بندی کو ریاستی اسمبلی کی منظوری کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ حکومت نے انتہائی شفافیت کے ساتھ گھر گھر سروے کا کام مکمل کیا اور طبقات کی آبادی کا تعین کیا گیا۔ انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ طبقاتی سروے کو سیاسی مقصد براری کا ذریعہ نہ بنائیں کیونکہ حکومت پسماندہ طبقات کو سماجی انصاف فراہم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی سروے کی50 دن میں تکمیل کے ذریعہ تلنگانہ حکومت نے ریکارڈ قائم کیا ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے خاندانی سروے کا کام غیر سائنٹفک انداز میں انجام دیا تھا جس میں کئی خامیاں پائی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ بی آر ایس نے خاندانی سروے رپورٹ کو اسمبلی اور کابینہ میں پیش نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 9 سال کے وقفہ کے بعد کمزور طبقات کی حقیقی آبادی منظر عام پر آئی ہے اور بی آر ایس کو حکومت کا یہ کارنامہ برداشت نہیں ہے۔ کمزور طبقات سے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کرنے والے سروے کی مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجالس مقامی کے انتخابات میں کانگریس پارٹی بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ وہ تحفظات کی تائید کرتے ہوئے بی سی طبقات سے اپنی ہمدردی کا ثبوت دیں۔1