حیدرآباد۔12۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت اگر جرأت ہے تو ہمارے خلاف کاروائی کرکے دکھائے یہ رویہ ریاست کے خانگی کالجس نے اختیار کیا ہوا ہے اور انہیں عدالتی احکامات اور حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے احکامات کا بھی کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے۔ خانگی کالجس کی طلبہ کو ہراسانی کے سلسلہ میں حکومت ‘ تلنگانہ کونسل برائے اعلیٰ تعلیمات اور عدالتوں کی جانب سے متعدد مرتبہ ہدایات کے باوجود کالجس کے ذمہ داروں کی جانب سے اسنادات کی واپسی کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی جا رہی ہے بلکہ طلبہ اور اولیائے طلبہ کو ہراساں کرتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ وہ جہاں چاہے شکایت کریں انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ریاست تلنگانہ میں طلبہ و اولیائے طلبہ گذشتہ 10برسوں سے فیس بازادائیگی اسکیم کے تحت کالجس کو بقایاجاتا ادا نہ کئے جانے کے نتیجہ میں مشکلات کا شکار ہونے لگے ہیں اور اپنے طور پر فیس ادا کرنے کی صورت میں ہی نہیں اپنے تعلیمی اسنادات حاصل ہورہے ہیں جبکہ ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ کہا جا چکا ہے کہ فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں بھی طلبہ کے اسنادات کو کالجس اپنے پاس نہیں رکھ سکتے لیکن اس کے باوجود کالجس انتظامیہ کی جانب سے فیس کی عدم ادائیگی پر کوئی اسناد جاری کرنے سے انکار کیا جا رہاہے ۔ ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعدسیکریٹری تلنگانہ کونسل آف ہائر ایجوکیشن مسٹر سری رام وینکٹیش کی جانب سے ریاست کی تمام جامعات کے وائس چانسلرس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے یونیورسٹیز سے ملحقہ کالجس کے لئے ہدایت جاری کرنے کے احکام دیئے گئے تھے لیکن ان احکامات کی اجرائی کے باوجود بھی کالجس طلبہ کے اسنادات و اپس کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے فیس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسناد نہ روکنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن عدالت کے ان احکامات کا بھی کالجس پر کوئی اثرنہیں ہوا جبکہ طلبہ و اولیائے طلبہ کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے فیس کی بازادائیگی کی منظوری کے بعد ہی کالجس میں داخلہ دیا گیا تھا اور حکومت کی جانب سے فیس موصول نہ ہونے کی بنیاد پر کالجس اور ان کے ذمہ داروں نے مسلسل امتحانات اور دیگر فیس کے نام رقومات وصول کی ہیں اور اب جبکہ ان تعلیمی اداروں میں تعلیم مکمل ہوچکی ہے تو مزید فیس کا مطالبہ کرتے ہوئے اسناد کی اجرائی سے انکار کیا جا رہاہے۔ بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ کونسل برائے اعلیٰ تعلیمات کی جانب سے ریاستی جامعات اور کالجس کو اس طرح کے مکتوبات کی اجرائی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ان مکتوبات اور سرکاری احکامات کو خانگی کالجس میں مسلسل چیالنج کیا جا تارہا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ خانگی کالجس کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے بھاری بقایاجات وصول طلب ہیں جس کی وجہ سے وہ طلبہ کے اسناد اسی وقت جاری کرتے ہیں جبکہ طلبہ مکمل فیس ادا کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریاستی جامعات کو موصول ہونے والے احکامات کی بنیاد پر ریاستی حکومت کے تحت موجود یونیورسٹیز کے ذمہ دار اپنے محکمہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے فیس کا مطالبہ نہیں کرتے لیکن ملحقہ کالجس پر اس کے لئے دباؤ ڈالنا یونیورسٹی کے اختیار میں شامل ہے لیکن اس کے باوجود کالج انتظامیہ ان احکامات پر عمل نہ کرتے ہوئے طلبہ پر دباؤ بنائے رکھتے ہیں۔ 3